دُختِ کرام — Page 180
14A آپ خود جانتے ہیں۔کہ آپ کے ابا جان سے نہ صرف مجھے ہی اپنی ذات میں کسی آن بھی مدھم نہ ہونے والی اُلفت اور محبت تھی بلکہ بحمد للہ انہیں بھی مجھے سے یکساں درجہ کی انس و محبت - رغبت تھی۔اس درجہ کہ آپ کے بھی علم اور احساس میں بھی جگہ پا چکی ہوتی تھی۔عزیزم ! اس بارے میں ذکر کروں کہ آپ کے ابا جان کی رحلت ہو جانے پر جب میں ان کی قبر پر مٹی دے رہا تھا تو آپ نے مجھ سے کہا۔ابا جان کو آپ سے بہت محبت تھی۔اور آپ کی امی جان جن کی اس وقت رحلت پر صدمہ رسیدہ ہونے پر آپ سے مخاطب ہوں۔میرے علم میں یہ بات آتی رہی کہ کسی کی زبان سے میرا ذکرہ بھی کسی وقت ان کے سامنے ہو جاتا۔تو آپ فرماتیں "میرے میاں کے وہ بڑے پیارے اور محبت اور رفیق رہے ہیں۔اپنی سب سے چھوٹی صاحبزادی شادی کی عمر کو جب پہنچ گئی تھی۔تو مجھے گرامی نام لکھا کہ " آپ کے بھائی کی یہ بی بی میرے پاس امانت ہے دعا کریں کہ میں اس امانت سے سبکدوش ہو جاؤں۔اللہ اللہ ! خدا نے انہیں رختِ کرام قرار دیا۔ان کے وجود سے ہم پر اللہ تعالٰی کی طرف سے نزول رحمت و برکات کا سلسلہ جاری تھا۔آہ۔حضرت اقدس علیہ اسلام کے وجود کا ایک لخت ہمارے اندر موجود تھا۔آج اسے بھی اللہ تعالی نے بلالیا ہے۔اچھا، بلانے والا۔خالق ومالک۔طوعاً کر یا اس سے موافقت ہی ہمارا شیوہ بنتا ہے۔وما توفیقی الا بالله جب کبھی ربوہ آنے پر پسر عزیز عبدالقادر سے بھی ملنا ہوا۔تو اس