دُختِ کرام — Page 154
۱۴۲ زیادہ جگہیں دیکھ لیں اس لیے پھر ساحل پر لے گئے وہاں کہاں صاحب نے بہت زور لگایا کہ سویڈن بھی ہو آئیں امی تو راضی بھی ہو گئیں ، لیکن میں نے اتھی کو جانے سے روک دیا۔میں بھی تھکی ہوئی تھی اور مجھے ڈر تھا کہ امّی اپنی طاقت سے بڑھ کر نہ ہمت کر لیں اور ہما را بعد کا سفر خراب ہو۔یہ ہمارا آخری دن کو مین ہیگن میں تھا۔واپسی پر بھائی مسعود نے بادشاہ کا محل دکھایا جس میں وہ آج کل رہائش پذیر ہے اس کو دیکھے کہ ہم کافی مایوس ہوئے۔سوئیٹزر لینڈ ۲۴ اگست کو ہم صبح 9 بجے کوپن ہیگن سے سوئٹزر لینڈ کے لیے روانہ ہوتے جاتے ہوئے بھائی مسعود نے مجھے اینڈرسن کی۔FAIRY TALES تحفہ دی جو مجھے بہت پسند آئی۔زیورک کے ائیر لورٹ پر بھائی موجی آپا قدسیہ اور باجوہ صاحب ہمیں لینے آئے ہوتے تھے۔سامان نکلوانے کے بعد ہم ایر پورٹ سے باجوہ صاحب کے گھر کی طرف روانہ ہوئے زیورک بہت صاف ستھرا لگا۔گھروں کے سامنے چھوٹے چھوٹے باغیچے پھلوں کے درختوں سے لدے ہوئے تھے۔باجوہ صاحب کے فلیٹ کے ساتھ ہی ایک بہت خوبصورت کاشی تھی جو پھلوں اور پھولوں سے بھری ہوئی تھی۔زیورک کو جیسا سُنا تھا ویسا ہی خوبصورت پایا۔باجوہ صاحب کا اپنا فلیٹ بہت صاف ستھرا تھا۔دونوں میاں بیوی