دُختِ کرام

by Other Authors

Page 152 of 497

دُختِ کرام — Page 152

۱۴۰ 4 جو دو بیلوں کو کھینچ رہی تھی فوارے اس کے اندر سے نکل کر ایک تالاب میں ہہ رہے تھے اور تالاب کا پانی ایک اس سے بھی بڑے تالاب میں بہ رہا تھا یہ ثبت ڈنمارک کی زرخیزی کی علامت کے طور پر نصب کیا گیا تھا۔ساحل کے او پر ایک خوبصورت پارک بھی تھا۔جس میں بے شمار نگا رنگ کے پھول کھلے ہوتے تھے۔اس کے بعد ہم مشہور مصنف اینڈرسن کی کہانیوں کا مقبول کردار جل پری دیکھنے ساحل کی طرف بڑھے جل پری میں سمندر کے کنارے ایک بڑے گول پتھر پر بیٹھی تھی۔اس کے بیٹھنے کا انداز دل شکستہ تھا۔کہانی کے مطابق جل پری کا شہزادہ اس کو سمندر کے کنارے تنہا چھوڑ کر چلا گیا تھا۔اور وہ اس کے آنے کے انتظار میں تنہا اور اداس بیٹھی تھی بارش ہونے لگی اس لیے ہم جلدی جلدی واپس لوٹے۔راستے میں کمال صاحب نے چھوٹی سی جل پری امتی کو تحفہ میں پیش کی۔امی کو SOU - VENIR کا بہت شوق تھا اور جو مقام دیکھ لیتیں وہاں سے ضرور ایک چھوٹی سی یادگار خرید لیتیں۔رات کا کھانا کمال صاحب نے خود بنایا۔میر احمد بہت خوش اخلاق خاتون تھیں۔صورت سے کچھ اُداس لگتیں بعد میں پتہ چلا انکا ماضی بہت دردناک گزرا ہے۔دوسرا دن ۲۳ اگست کافی مصروف تھا۔آج ہم ٹرین کے ذریعہ ایک مشہور محل دیکھنے HELSINGO جا رہے تھے۔تمام راستہ بہت خوبصورت تھا۔گھنے جنگلات سے گھرا ہوا جو کہ بادشاہ کی شکار گاہیں