دُختِ کرام — Page 140
۱۲۸ ہوئی جو صرف محسوس کی جا سکتی ہے بیان نہیں ہوسکتی۔ہمارے ہمبرگ کے مبلغ مکر می چوہدری عبد اللطیف صاحب بمع دیگر افراد جماعت جن میں پاکستانی و نومسلم جرمن ایک دو غیر مسلم جرمن موجود تھے ان میں مستورات بھی تھیں۔بچے بھی تھے جو اھلاً وَسَهْلاً وَمَرْحَبًا که کم کر پھول پیش کر رہے تھے دیگر مسافران جہاز حیرت سے دیکھنے لگے کہ یہ دو برقعہ پوش گمنام سی معمولی عورتیں کیا چیز نکلیں کہ ایسا شاندار استقبال ان کا ہو رہا ہے میرا دل تشکر وامتنان کے جذبات سے لبریز تھا زبان بند تھی مگر میری آنکھوں میں بے اختیار آنسو بھر رہے تھے میں اپنی گھبراہٹ پر اللہ تعالیٰ کے حضور اتنی نادم تھی جس کی انتہا نہیں۔دوسرے دن کے حالات تو آپ لوگوں کو اخبارات سے معلوم ہو گئے ہونگے۔صبح سے کیمرہ مین اور پریس کی طرف سے عورتیں انٹرویو کے لیے چلے آرہے تھے۔سو یہ تھی وہ برکت احمدیہ جس کا تجربہ مجھے اس سفر میں ہوتا۔میں سوچا کرتی ہوں کہ اپنے وطن میں ہیں سال ریاضت کر کے بھی میرا ایسان خدا تعالیٰ پر اس پایہ کا نہ ہوتا۔جتنا اس تین ماہ کے ممالک غیر کے قیام میں ہوا۔پھر تو یہ سلسلہ ہی شروع ہو گیا۔یہاں سے کوپن ہیگن وہاں سے زیورچ میں تنہا ہی گئی مگر دل کو تقویت حاصل ہو چکی تھی تجربہ نے ثابت کر دیا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے فضل سے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی جوتیوں کے صدقے میں ہر جگہ بہن اور بھائی اور نیچے موجود ہیں۔لندن تو خیر اپنا گھر ہی تھا۔ماشاء اللہ پاکستان