دُختِ کرام — Page 4
۴ کامیاب و کامران ہوتا ہے۔اسی لیے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد گرامی ہے کہ اصحابِی النُّجُومِ باتِهُمُ اقْتَدَيتُمُ اهْتَدَيْتُمُ میرے صحابہ ستاروں کی مانند ہیں تم ان میں سے جس کسی کی بھی پیروی کرو گے۔ہدایت پاؤ گے۔پھر بزرگ ہستیوں کے ذکر خیر اور ان کی سوانح عمری بیان کرنے سے یہ بھی غرض ہوتی ہے کہ زیادہ سے زیادہ ان کی زندگی کے اوراق لوگوں کے سامنے آئیں اور ہر پہلو سے ان کے کار ہائے نمایاں کا تذکرہ کیا جائے تاکہ ان قابل قدر مستیوں کے متعلق زیادہ سے زیادہ معلومات فراہم ہوں جن سے جماعت کے ان کم سن افراد اور آیندہ آنے والی نسلوں کی تشنگی معلومات - فرو ہو۔جنھیں ان اکابر کو دیکھنے کا موقع نہیں ملا۔انسان کا ایک فطری خاصہ ہے کہ وہ سلف صالحین کا ذکر خیر سُن کر بے اختیار کر اُٹھتا ہے کہ کاش میں بھی اس زمانہ میں ہوتا۔اور ان کی برکات و فیوض سے حصہ پاتا اور ان کی زیارت سے بہرہ ور ہوتا۔اور یہی وہ معیت و رفاقت کا جذبہ ہے جو سوانح عمری اور سیرت نگاری کو منطقیہ مشہور پرایا۔اور اس قسم کی تحریروں اور تذکروں سے اُسی وقت اعلیٰ نتائج مترتب ہو سکتے ہیں جب صاحب سوانح کی سیرت و کردار اور اُس کی شخصیت کے متعلق زیادہ سے زیادہ تفصیل میستر آتے اور زندگی کے ہر پہلو کو اجاگر کیا جائے کیونکہ انسانی زندگی کے بہت سے پہلو ہیں۔کسی گوشے ہیں۔ان گنت مراحل سے انسان گذرتا ہے۔قسم قسم کی کیفیات اس پر وارد ہوتی ہیں۔زندگی کا ہر پہلو