دُختِ کرام

by Other Authors

Page 109 of 497

دُختِ کرام — Page 109

94 یہ واقعہ بتایا امی اور ابا جان کو بہت رنج ہوا۔۔۔۔۔طبیعت روز بروز گر رہی تھی آخر وہ دن بھی آپہنچا جس کا دھڑکا لگا ہوا تھا۔وفات سے ایک روز پہلے امی جان کو شدید سردرد کا دورہ تھا وہیں کرے میں ایک چارپائی پر منہ سر پیٹے پڑی یہ ہیں دوپہر کے وقت ابا جان نے جسم میں درد اور سخت سردی لگنے کی شکایت کی اوپر کپڑے وغیرہ اوڑھاتے اور دباتے رہنے شام کو تھرما میٹر لگایا تو ٹمپریچر ۱۰ تک تھا سر پر برف رکھی گئی۔نمک اور گھی سے پنڈلیاں ہوتی گئیں۔دوائیاں تومل ہی رہی تھیں بخار کچھ کمی پر آگیا۔مغرب کے قریب اتنی جان کا سر درد کچھ کم ہوا۔اُٹھ کر ابا جان کے پلنگ کے پاس آئیں اباجان نے نہایت محبت سے ہاتھ پکڑ کر پوچھا۔بیگم اب طبیعت کیسی ہے "۔سب مغرب کی نماز پڑھتے چلے گئے۔امی جان نے بھی نماز شروع کر دی تھوڑی دیر کے بعد ہی میری بہن شاہدہ بھاگتی ہوئی آئی کہ جلدی چلو۔ابا جان کی طبیعت ایک دم خراب ہو گئی ہے سب کمرے میں جمع ہوگئے بھائی منور احمد بلڈ پریشر دیکھ رہے تھے۔" والے دورے جیسی حالت ہوگئی۔فوراً ڈاکٹر یوسف صاحب کو بلایا گیا وہ اتنے سالوں کے معالج تھے حالت دیکھتے ہی سمجھے گئے۔ان کی طبیعت پر بے حد اثر تھا۔بلڈ پریشر دیکھا