دُختِ کرام — Page 99
احسن الجزاء (الفضل (۲۲/۱/۶) محترم شیخ نور احمد صاحب ایڈووکیٹ لاہور تحریر فرماتے ہیں :- وکالت شروع کرنے کے بعد پہلی دفعہ نشانہ میں ایک مقدمہ کے تعلق میں حضرت میاں عبداللہ خان صاحب کی خدمت کرنے کا موقع پیدا ہوا۔آپ ان دنوں شدید بیمار تھے۔۔۔۔آپ نے اس مقدمہ کے سلسلہ میں بھی اعلیٰ درجہ کے تقویٰ کا نمونہ دکھایا۔ان دنوں خاکسار کو بہت دفعہ حاضر خدمت ہونے کا موقع ملا۔دن کا کوئی حصہ ہو جب بھی وہاں گیا۔یہی معلوم ہوا کہ حضرت صاجزادی امتہ الحفیظ بیگم صاحبہ آپ کی خدمت میں ہر آن موجود ہیں اور صرف وہ چند منٹ دوسرے کمرہ میں تشریف لے جائیں جبکہ خاکسار آپ سے گفتگو کر رہا ہوتا ایک کیس کے سلسلہ میں آپ کے اہل خانہ کا بیان عدالت کے مقرر کردہ اہل کمیشن کے سامنے قلمبند کرانے کی ضرورت پیش آئی اور معلوم ہوا کہ وہ سختی سے سچ بولنے پر عمل کرتی ہیں۔جب ان کو اشارہ یہ کہنے کی کوشش کی گئی کہ اس طرح آپ کے کسی عزیز کو نقصان پہنچ سکتا ہے اور ایسابیان دینے میں کوئی حرج نہیں انہوں نے فرمایا کہ خواہ میرے کسی عزیز ترین عزیز کا لاکھوں روپیہ کا نقصان ہو جائے۔مگر میں کسی امر کے متعلق کوئی ایسا بیان دینے کو تیار نہیں کہ جس میں