دعائیہ سیٹ — Page 261
میرا فلاں عضو نہ ہوتا تو کیا ہوتا۔اسی طرح یہ سوچے کہ یہ انعام جو مجھے دیئے گئے ہیں یہ چھین لئے جائیں تو پھر کیا ہو اور یہ بھی دیکھے کہ بہت سے لوگ تھے جن پر میری طرح ہی خدا تعالیٰ کے انعام تھے۔مگر ان سے چھین لئے گئے اس بات کے لئے تباہ شدہ گھر اور ہلاک شدہ بستیاں یا اپنے جسم کا ہی کوئی تباہ شدہ حصہ کافی سبق دے سکتا ہے وہ اسے دیکھے اور پھر دعا کرے یہ دعا خوف اور طمع کی دعا ہو گی جس کو قرآن کریم نے بھی بیان کیا ہے۔ایک طرف اس کے خوف ہوگا اور دوسری طرف طمع۔یہ دود یوار میں ہوں گی جو اسے دنیا سے کاٹ کر اللہ کی طرف مائل کر دیں گی اور اس طرح اس کی دعا قبول ہو جاتی ہے۔دسواں طریق دعا پھر جب کوئی شخص دعا کرنے لگے تو اپنی حالت کو چست بنائے کیونکہ جس طرح نفس مردہ ہو تو اس کا اثر جسم پر پڑتا ہے اسی طرح اگر جسم مردہ ہو تو اس کا اثر نفس پر پڑتا ہے۔جب کوئی سستی کی حالت اختیار کر لیتا ہے تو اس کے نفس پر بھی سستی چھا جاتی ہے۔یہی وجہ ہے کہ نماز میں قیام رکوع سجدہ وغیرہ جتنی حالتیں رکھی گئی ہیں وہ سب چستی کی رکھی ہیں تو جسم کی سستی کا اثر روح پر اور خیالات پر ہوتا ہے اس لئے دعا کرنے کے وقت انسان کو چستی کی حالت میں ہونا چاہئے۔یہ نہ ہو کہ سجدہ میں جائے تو کہنیاں زمین پر گرا دے۔مجھے ہمیشہ اس بات کا شوق لگا رہتا ہے کہ میں شریعت کے ہر ایک چھوٹے سے چھوٹے حکم میں بھی معلوم کروں کہ کیا حکمت ہے۔اس وجہ سے میں نے 261