دعائیہ سیٹ — Page 249
اللہ تعالیٰ کی دائمی محبت دوسری بات یہ ہے کہ ہم انسانوں میں دیکھتے ہیں کہ ان کے جو پیارے ہوتے ہیں، ان سے جو نیک سلوک کرتا ہے وہ بھی ان کی نظروں میں پیارا معلوم دینے لگ جاتا ہے مثلاً اگر کوئی ایک بچہ کو ہلاکت سے بچائے تو اس بچے کے ماں باپ اس کے شکر گزار ہوں گے اور اسے یہ نہیں کہیں گے کہ تو نے بچہ کو بچایا ہے نہ کہ ہم کو کہ ہم تیرے مشکور ہوں تو یہ محبت کا تقاضا ہے کہ جو چیز کسی کی محبوب ہوتی ہے تو جب اس کو کوئی فائدہ پہنچائے یا اس کی نسبت کوئی اچھی بات کہے تو محب کے دل میں اس کی بھی محبت پیدا ہو جاتی ہے یہی گر دعا میں بھی انسان استعمال کر سکتا ہے اللہ تعالیٰ کو اس سے بہت زیادہ محبت انسانوں سے ہوتی ہے جو بندوں کو بندوں سے ہوتی ہے، کیوں؟ اس لئے کہ محبت کی بنیاد تعلق پر ہوتی ہے چونکہ بندوں کا ایک دوسرے کے ساتھ ابتداء کے لحاظ سے بھی اور انتہاء کے لحاظ سے بھی عارضی تعلق ہوتا ہے۔اس لئے ان کی محبت خواہ کتنی ہی زیادہ ہو پھر بھی خدا کی محبت سے مقابلہ نہیں کر سکتی۔کیونکہ خدا تعالیٰ کی محبت دائمی اور ہمیشہ کے لئے ہے ایک جنگ میں آنحضرت مسیلی لا الہ الم تشریف رکھتے تھے کفار کو شکست ہو چکی تھی۔صحابہ قیدیوں کے مال اسباب کو جمع کر رہے تھے پکڑ دھکڑ شروع تھی کہ ایک عورت بھاگی بھاگی پھرتی نظر آئی وہ جس بچہ کو دیکھتی اسے پکڑ کر پیار کرتی اور پھر دیوانہ وار آگے چل پڑتی۔اسی طرح چلتے چلتے اسے اپنا بچہ مل گیا جسے اس نے پکڑ کر چھاتی سے لگالیا اور آرام سے بیٹھ گئی آنحضرت نے صحابہ کو مخاطب کر کے فرمایا۔کیا تم نے 249