دعائیہ سیٹ

by Other Authors

Page 224 of 312

دعائیہ سیٹ — Page 224

پاس آیا تو آپ نے فرمایا کہ مجھے حلوہ کھلا ؤ اور وہ قبالہ حلوائی کی دوکان سے مل گیا۔ان باتوں کے بیان کرنے سے میرا یہ مطلب ہے کہ جب تک دعا کرنے والے اور کرانے والے میں ایک تعلق نہ ہو تا ثر نہیں ہوتی۔غرض جب تک اضطرار کی حالت پیدا نہ ہو اور دعا کرنے والے کا قلق دعا کرانے والے کا قلق نہ ہو جائے کچھ اثر نہیں کرتی۔بعض اوقات یہی مصیبت آتی کہ لوگ دعا کرانے کے آداب سے واقف نہیں ہوتے اور دعا کا کوئی بین فائدہ محسوس نہ کر کے خدائے تعالیٰ پر بدظن ہو جاتے ہیں اور اپنی حالت کو قابل رحم بنا لیتے ہیں۔بالآخر میں کہتا ہوں کہ خود دعا کرو یا دعا کراؤ۔پاکیزگی اور طہارت پیدا کرو۔استقامت چاہو اور تو بہ کے ساتھ گر جاؤ کیونکہ یہی استقامت ہے۔اس وقت دعا میں قبولیت نماز میں لذت پیدا ہوگی۔ذالِكَ فَضْلُ اللَّهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَشَاءُ ( ملفوظات جلد سوم صفحہ نمبر 38-39) عبادت کے اُصول کا خلاصہ ایک شخص نے حضرت مسیح موعود سے سوال کیا نماز میں کھڑے ہو کر اللہ جل شانہ کا کس طرح کا نقشہ پیش نظر ہونا چاہئے؟ حضرت اقدس نے فرمایا: موٹی بات ہے۔قرآن شریف میں لکھا ہے کہ : اُدْعُوهُ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّينَ (الاعراف : 30) اخلاص سے اللہ تعالیٰ کو یاد کرنا چاہئے اور اس کے احسانوں کا بہت مطالعہ کرنا چاہئے۔چاہئے کہ اخلاص ہو۔احسان ہو اور اس کی طرف رجوع ہو کہ بس وہی ایک ربّ اور حقیقی کارساز ہے۔224