دعائیہ سیٹ — Page 211
اور میری زندگی اور میری موت اور میری ہر یک قوت اور جو مجھے حاصل ہے اپنی ہی راہ میں کر اور اپنی ہی محبت میں مجھے زندہ رکھ اور اپنی ہی محبت میں مجھے مار اور اپنے ہی کامل متبعین میں مجھے اٹھا۔اے ارحم الراحمین جس کام کی اشاعت کے لئے تو نے مجھے مامور کیا ہے اور جس خدمت کے لئے تو نے میرے دل میں جوش ڈالا ہے اس کو اپنے ہی فضل سے انجام تک پہنچا اور اس عاجز کے ہاتھ سے حجت اسلام مخالفین پر اور ان سب پر جواب تک اسلام کی خوبیوں سے بے خبر ہیں پوری کر اور اس عاجز اور اس عاجز کے تمام دوستوں اور مخلصوں اور ہم مشربوں کو مغفرت اور مہربانی کی نظر سے اپنے ظل حمایت میں رکھ کر دین و دنیا میں آپ ان کا متکفل اور متولی ہو جا اور سب کو اپنی دارالرضاء میں پہنچا اور اپنے نبی صلی یا یہ اہم اور اس کی آل اور اصحاب پر زیادہ سے زیادہ در و دوسلام و برکات نازل کر۔آمین یا رب العالمین۔تاریخ احمدیت جلد اول ص 265) (نوٹ) : یہ دعا آپ نے 1885ء کے اوائل میں حضرت صوفی احمد جان صاحب لدھیانوی کو اپنے قلم سے تحریر فرمائی۔نیز فرمایا کہ ” آپ پر فرض ہے کہ انہیں الفاظ سے بلا تبدیل و تغیر بیت اللہ میں حضرت ارحم الراحمین میں اس عاجز کی طرف سے دعا کریں۔چنانچہ حضرت صوفی صاحب نے حسب الحکم 1302 ھ حج اکبر کے دن (بمطابق 19 ستمبر 1885ء) بیت اللہ میں اس دعا کو بلند آواز سے پڑھا ساتھ کی جماعت آمین کہتی گئی۔تاریخ احمدیت جلد اول صفحہ 264 211