دعائیہ سیٹ — Page 271
ثابت کر دکھائے کہ حقیقت میں اللہ کے سوا کوئی محبوب و مطلوب اور مقصود نہیں ہے۔جب اس کی یہ حالت ہو اور واقعی طور پر اس کا ایمانی اور عملی رنگ اس اقرار کو ظاہر کرنے والا ہو، تو وہ خدا تعالیٰ کے حضور اس اقرار میں جھوٹا نہیں۔ساری مادی چیزیں جل گئی ہیں اور ایک فنا اُن پر اس کے ایمان میں آگئی ہے۔تب وہ لَا إِلَهَ إِلَّا الله منہ سے نکالتا ہے اور مُحمد رسُولُ اللہ جو اس کا دوسرا جزو ہے وہ نمونہ کے لئے ہے۔کیونکہ نمونہ اور نظیر سے ہر بات سہل ہو جاتی ہے۔انبیاء علیہم السلام نمونوں کے لئے آتے ہیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جمیع کمالات کے نمونوں کے جامع تھے۔کیونکہ سارے نبیوں کے نمونے آپ میں جمع ہیں۔( ملفوظات جلد دوم ص 59) کلمہ کے معنے کی طرف غور کرو۔لا إله إلا الله انسان زبان سے اقرار کرتا ہے اور دل سے تصدیق کرتا ہے کہ میرا معبود بجز خدا کے اور کوئی نہیں۔اللہ ایک عربی لفظ ہے اور اس کے معنے معبود اور محبوب اور اصل مقصد کے ہیں۔یہ کلمہ قرآن شریف کا خلاصہ ہے جو مسلمانوں کو سکھلایا گیا ہے۔اکثر لبی کتابوں کا یاد کرنا ہر ایک کے واسطے مشکل ہے اور اللہ تعالیٰ حکیم ہے۔اُس نے ایک مختصر سا کلمہ سنا دیا ہے۔اس کے معنے یہ ہیں کہ جب تک خدا کو مقدم نہ کیا جاوے۔جب تک خدا کو معبود نہ بنایا جاوے۔جب تک خدا کو مقصود نہ ٹھہرایا جاوے انسان کو نجات حاصل نہیں ہو سکتی۔حدیث شریف میں آیا ہے مَنْ قَالَ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ فَدَخَلَ الْجَنَّة جس نے لا إلهَ إِلَّا اللہ کہا وہ بہشت میں داخل ہوا۔لوگوں نے اس حدیث کا مفہوم سمجھنے میں دھوکہ کھایا ہے۔وہ یہ 271