دعائیہ سیٹ — Page 242
اور اس پر عمل کرے اس کی دعا قبول ہوگی اس طرح ایک ناقص ایمان والا شخص جو رسمی طور پر شریعت کے احکام پر عمل کرتا ہے یا ایک دہر یہ جو یونہی لوگوں کے ڈر سے نماز پڑھ لیتا ہے داخل نہیں ہو سکتا۔پھر سوال ہوتا ہے کہ وَلْيُؤْمِنُوا بِی فرمانے کا کیا مطلب ہوا۔جب پہلے سے ہی یہ شرط موجود ہے کہ دعا اس وقت قبول ہوتی ہے جبکہ استجابت ہوا اور استجابت اس وقت ہوتی ہے جبکہ ایمان باللہ ہو تو پھر ایمان لانے کے کیا معنی، استجابت جب ایمان لانے کے بغیر ہو ہی نہیں سکتی تو پہلے ایمان ہونا چاہئے اور بعد میں استجابت۔نہ کہ پہلے استجابت اور بعد میں ایمان۔اس صورت میں ایک ظاہر بین کو اختلاف نظر آتا ہے لیکن یہ بات غلط ہے۔قبولیت دعا پر یقین ہونا یہاں خدا تعالیٰ پر ایمان لانے سے اس کی شریعت پر ایمان لانا مراد نہیں ہے بلکہ دعا کے قبول ہونے کا ایک اور گر بتایا ہے جس کے نہ سمجھنے سے بہت سے لوگوں نے ٹھوکر کھائی ہے اور ان کی دعائیں رد کی گئی ہیں وہ گر یہ ہے کہ انسان شریعت کے تمام احکام پر عمل کرے اور دعائیں مانگے مگر ساتھ ہی اس بات پر ایمان بھی رکھے کہ خدا تعالیٰ دعائیں قبول کرتا ہے بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں کہ شریعت کے احکام پر بڑی پابندی سے عمل کرتے ہیں۔ان کے دلوں میں خشیت اللہ بھی ہوتی ہے بڑے خشوع و خضوع سے دعائیں بھی کرتے ہیں مگر پھر یہ کہتے ہیں کہ فلاں اتنا بڑا کام ہے اس کے متعلق دعا کہاں سنی جا سکتی ہے یا یہ کہتے ہیں کہ ہم گنہ گار ہیں ہماری دعا خدا کہاں سنتا 242