دعائیہ سیٹ

by Other Authors

Page 272 of 312

دعائیہ سیٹ — Page 272

خیال کرتے ہیں کہ صرف زبان سے کلمہ پڑھ لینا کافی ہے اور صرف اتنے سے انسان بہشت میں داخل ہو سکے گا۔خدا تعالیٰ الفاظ سے تعلق نہیں رکھتا وہ دلوں سے تعلق رکھتا ہے۔اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ در حقیقت اس کلمہ کے مفہوم کو اپنے دل میں داخل کر لیتے ہیں اور خدا تعالیٰ کی عظمت پورے رنگ کے ساتھ اُن کے دلوں میں بیٹھ جاتی ہے وہ جنت میں داخل ہو جاتے ہیں۔جب کوئی شخص بچے طور پر کلمہ کا قائل ہو جا تا ہے تو بجز خدا کے اور کوئی اس کا پیارا نہیں رہتا۔بجز خدا کے کوئی اس کا معبود نہیں رہتا اور بجز خدا کے کوئی اس کا مطلوب باقی نہیں رہتا۔وہ مقام جو ابدال کا مقام ہے اور وہ جو قطب کا مقام ہے اور وہ جو غوث کا مقام ہے وہ یہی ہے کہ کلمہ لا إله إلا اللہ پر دل سے ایمان ہو۔۔۔۔۔یہ کلمہ شریف ایک اللہ کے سوا تمام الہوں کی نفی کرتا ہے۔تمام انفسی اور آفاقی اللہ باہر نکال کر اپنے دل کو ایک اللہ کے واسطے پاک صاف کرنا چاہئے۔بعض بت ظاہر ہیں مگر بعض بہت باریک ہیں۔مثلاً خدا تعالیٰ کے سوائے اسباب پر توکل کرنا بھی ایک بہت ہے مگر یہ ایک بار یک بت ہے۔۔۔۔۔۔۔۔وہ بار یک بت جولوگ اپنی بغلوں کے اندر دبائے پھرتے ہیں ان کا نکالنا ایک مشکل امر ہے۔بڑے بڑے فلسفی اور حکیم ان کو اپنے اندر سے نکال نہیں سکتے۔وہ نہایت باریک کیڑے ہیں جو کہ خدا تعالیٰ کے بڑے فضل کی خوردبین کے سوائے نظر نہیں آسکتے۔وہ بڑاضر رانسان کو پہنچاتے ہیں۔وہ بت جذبات نفسانی کے ہیں جو کہ انسان کو خدا تعالیٰ اور اپنے ہم جنسوں کی حقوق تلفی میں حد سے باہر لے جاتے ہیں۔بہت سے پڑھے لکھے جو عالم کہلاتے ہیں اور فاضل 272