دعائیہ سیٹ — Page 270
پڑھنے والوں پر اللہ تعالیٰ خوش اور راضی رہتا ہے۔5۔کلمہ طیبہ کی حقیقت یہی ہے کہ اس کا زبان سے اقرار کرنا اور دل سے اس بات کی تصدیق کرنا کہ میرا معبود سوائے خدا تعالیٰ کے دوسرا کوئی نہیں اور آنحضرت لانا سلیم اللہ تعالیٰ کے رسول برحق ہیں۔حضرت مسیح موعود فرماتے ہیں: لَا إِلَهَ إِلَّا اللہ یہ توحید کا کلمہ ہے۔اس کے معنے ہیں کہ خدا تعالیٰ کے سوا کوئی بھی عبادت اور سچی فرمانبرداری کے لائق نہیں ہے۔خدا تعالیٰ اگر توحید کے پھیلانے میں کسی دوسرے کا محتاج ہوتا یا کسی اور کو اس کام میں اپنا شریک بنا تا تو بھی شرک لازم آتا تھا۔مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللہ کا جملہ کلمہ لا إلهَ إِلَّا اللہ کے ساتھ شامل کرنے میں ستر یہی که تا توحید کا سبق کامل ہو اور دنیا کو معلوم ہو کہ جو کچھ آتا ہے درحقیقت اسی خدا کی طرف سے آتا ہے۔آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان ہدایات کو خدا تعالیٰ سے پا کر مخلوق کو پہنچانے والے ہیں اور کہ جو کچھ دھر سے آتا ہے وہ اسی راہ سے آتا ہے۔ایک بات ہے جس میں کوئی تغیر نہیں۔وہ ہے: ( ملفوظات جلد پنجم ص656) لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ اصل یہی بات ہے اور باقی جو کچھ ہے وہ اس کے مکملات ہیں۔توحید کی تکمیل نہیں ہوتی جب تک عبادات کی بجا آوری نہ ہو۔اس کے یہی معنے ہیں کہ لَا إِلَهَ إِلَّا اللهُ مُحَمَّدٌ رَّسُولُ اللهِ کہنے والا اس وقت اپنے اقرار میں سچا ہوتا ہے کہ حقیقی طور پر عملی پہلو سے بھی وہ 270