دعائیہ سیٹ — Page 266
نے اس پر عمل کیا ہے کہ گھر میں نماز پڑھنے کے لئے ایک خاص جگہ معین کر دیتے تھے جہاں سوائے عبادت کے اور کام نہیں کئے جاتے تھے۔حضرت مسیح موعود نے بھی بیت الدعا بنایا ہوا تھا۔تو یہ بھی دعا قبول ہونے کا ایک طریق ہے۔یہ بہت سے طریق میں نے آپ لوگوں کو بتائے ہیں۔۔۔یہ باتیں گو بظاہر چھوٹی چھوٹی معلوم ہوتی ہیں مگر دراصل چھوٹی نہیں ان کو استعمال کر کے دیکھو تو پتہ لگے گا کہ ان سے کتنے کتنے بڑے نتائج نکلتے ہیں۔جس طرح ایک ذراسی کشش بدخط سے خوبصورت خط بنادیتی ہے اسی طرح یہ باتیں دعا کو قبولیت کے درجہ پر پہنچا دیتی ہیں۔۔۔اس سے بڑھ کر ہمارے لئے اور کون سا طریق کامیابی ہو سکتا ہے کہ ہم خدا تعالیٰ کے حضور عرض کریں کہ آپ ہی ہماری مدد کیجئے۔پس آپ لوگ اپنے اعتقاد ، اپنے اعمال میں خاص اصلاح کرلیں ، تا تمہارا کھانا پینا، چلنا پھرنا ،سونا جاگنا،غرضیکہ ہرسکون اور ہر حرکت اسی کے لئے ہو جائے۔آنحضرت سالی می بینیم نے فرمایا ہے خطبہ میں ایک ایسا وقت آتا ہے کہ اس وقت کی کی ہوئی دعا قبول ہو جاتی ہے۔پھر جمعہ سے مغرب تک ایسا ہی وقت آتا ہے۔پھر رمضان کے آخری عشرہ میں بھی ایسا موقعہ آتا ہے۔خدا کے فضل سے آپ لوگوں کو یہ سب موقعے نصیب ہیں۔اس لئے خوب دعائیں کرو تا خدا تعالیٰ اس مبارک مہینہ کے طفیل اور اس بابرکت پیغام کے طفیل جو تم دنیا کو پہنچانا چاہتے ہو تمہارے راستے سے سب رو کہیں دور کر دے اور تمہیں اس کام کا پورا پورا اہل بنائے جو تمہارے سپر دکیا گیا ہے۔آمین۔( خطبات محمود جلد 5 صفحہ 186 تا 202) 266