دعائیہ سیٹ

by Other Authors

Page 265 of 312

دعائیہ سیٹ — Page 265

إنَّ اللهَ لَا يُغَيْرُ مَا بِقَوْمٍ حَتَّى يُغَيْرُوْا مَا بِأَنْفُسِهِمْ (سورة الرعد: 12) کہ جب خدا تعالیٰ کسی قوم پر احسان اور فضل کرتا ہے تو اس وقت تک اس میں تغییر نہیں کرتا اور اسے نہیں ہٹاتا جب تک کہ وہ خود اپنی حالت میں تغیر نہ پیدا کرے تو انسان اپنی بداعمالیوں اور بدا فعالیوں کی وجہ سے خدا تعالیٰ کے فضل کو اپنے اوپر سے بند کر لیتا ہے لیکن ایک بے جان چیز ایسا نہیں کر سکتی۔اس لئے اس پر ہمیشہ کے لئے فضل قائم رہتا ہے دیکھو مدینہ کے لوگ اپنی بداعمالیوں کی وجہ سے ایسے ہو گئے ہیں کہ جس طرح وہاں کے لوگوں کی دعائیں آنحضرت سی ایم کے وقت پوری ہوتی تھیں اس طرح آج ان کی نہیں ہوتیں۔مکہ کے رہنے والوں کی بھی یہی حالت ہے وہاں آج بھی دعائیں قبول ہونے کا ویسا ہی اثر ہے جیسا کہ پہلے تھا کیونکہ وہاں کی اینٹیں گارا اور زمین نہیں بگڑی بلکہ آدمی بگڑ گئے ہیں تو جن جگہوں پر خدا تعالیٰ کا فضل نازل ہو جاتا ہے وہ پھر کبھی نہیں رکتا۔کیونکہ خدا تعالیٰ کا خزانہ ایسا وسیع ہے کہ جس کے خالی ہونے کا کبھی خیال بھی نہیں آ سکتا جن مقامات پر خدا تعالیٰ نے فضل کر دیا ہے پھر ان پر کبھی منفصل نہیں ہوتا۔اس لئے خاص مقامات میں دعا خاص طور پر قبول ہوتی ہے میں انسان کو چاہئے کہ جب دعا کرنے لگے تو ایسے ہی مقام کو چن کر کرے حضرت خلیفتہ المسیح الاول کے پاس بھی ایک مصلی تھا آپ فرماتے تھے کہ میں جب کبھی اس مصلے پر بیٹھ کر دعا کرتا ہوں خاص طور پر قبول ہوتی ہے تو خاص اشیاء میں خاص برکت کی وجہ سے خاص ہی اثر ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ آنحضرت سالی کی ایم نے اس بات کو پسند فرمایا ہے اور صحابہ کرام 265