دعائیہ سیٹ — Page 258
پراگندہ نہیں ہونے پاتے جب کسی ایسی جگہ یا ایسے وقت دعا کی جاتی ہے کہ ادھر سے آوازیں آتی رہتی ہیں تو دعا کی طرف خاص توجہ نہیں ہو سکتی اس طرح تو جہ کبھی کسی طرف چلی جاتی ہے اور کبھی کسی طرف چونکہ انسان کی طبیعت میں تجس کا مادہ ہے اس لئے ذراسی آواز آنے پر جھٹ ادھر متوجہ ہو جاتا ہے تا معلوم کرے کہ کیا ہوا ہے اس سے بچنے کے لئے وہ لوگ جن کو جلوت سے خلوت میسر نہیں آ سکتی یا آتی ہے مگر بہت تھوڑی دیر کے لئے وہ ایسے وقت دعا کریں جبکہ خاموشی ہو۔یا ایسی جگہ کریں جہاں کسی قسم کا شور نہ ہو۔میں نے حضرت مسیح موعود کو دیکھا ہے آپ جنگل میں تنہا چلے جایا کرتے تھے۔اس بات کا علم اکثر لوگوں کو نہیں ہے۔مگر آپ اس راستہ سے جو میاں بشیر احمد کے مکان کے پاس سے گزرتا ہے دس بجے کے قریب سیر کو جانے کے علاوہ اکیلے بھی جایا کرتے تھے ایک دن جو آپ جانے لگے تو میں بھی آپ کے ساتھ چل پڑا تھوڑی دیر چلے تو واپس لوٹ آئے اور مسکرا کر فرمانے لگے پہلے تم جانا چاہتے ہو تو ہو آؤ میں بعد میں جاؤں گا۔اس سے میں سمجھ گیا کہ آپ اکیلے جانا چاہتے تھے۔میں واپس آ گیا۔غرضیکہ علیحدہ جگہ اور خاموش وقت میں خاص توجہ سے دعا کی جاسکتی ہے کیونکہ توجہ کے لئے کوئی بیرونی روک نہیں ہوتی اس لئے طبیعت کا زور ایک ہی طرف لگتا ہے اور جیسا کہ میں نے کسی گزشتہ خطبہ میں بتایا تھا جب تمام زور ایک طرف لگتا ہے تو اپنے راستہ کی ہر ایک روک کو بہا کر لے جاتا ہے۔258