دعائیہ سیٹ

by Other Authors

Page 252 of 312

دعائیہ سیٹ — Page 252

ٹھنڈا سانس کھینچ کر کہنے لگا با پو جی جیسے مر گئے تو رنجیت سنگھ کون تھا جو نہ مرتا۔گویا اس کے نزدیک با پوجی اتنی حیثیت رکھتے تھے کہ رنجیت سنگھ جو اپنے وقت کا بادشاہ تھا کچھ حقیقت نہ رکھتا تھا یہ اس کے دل میں وہی جذبہ کام کر رہا تھا جو اپنے بزرگوں کی محبت اور الفت کا ہر ایک انسان میں ہوتا ہے۔مذاہب میں بھی یہی بات پائی جاتی ہے دیکھو باوجود اس کے کہ حضرت مسیح حضرت موسی کے خلفاء میں سے ایک خلیفہ تھے مگر اس محبت اور الفت نے جو اپنے استاد یا بزرگ سے ہوتی ہے عیسائیوں کو ایسا مجبور کیا کہ انہوں نے ان کو حضرت موسی سے بہت زیادہ بڑھا دیا۔میں نے بتایا ہے کہ حقیقی محبت استثناء کرتی ہے یعنی جس سے تعلق ہو اس کو دوسروں سے بڑھ کر دکھاتی ہے مگر ہم کو جس انسان سے اس زمانہ میں نور ملا ہے ہم اس کو مستی نہیں کرتے اور علی الاعلان کہتے ہیں کہ سب انسانوں کی نسبت آنحضرت صلی یہ ستم کا مقام اعلیٰ وارفع ہے اور آپ ایک ایسے مقام پر ہیں کہ گویا سب سے علیحدہ ہو کر ایک اکیلے نظر آ جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے کلمہ توحید کے ساتھ آپ کا نام بھی رکھ دیا ہے۔ایسے انسان کی نسبت جو درود بھیج کر خدا تعالیٰ سے برکات چاہے خدا تعالیٰ کی رحمت جوش میں آ کر اس پر فضل کرنا شروع کر دیتی ہے۔یہ بات احادیث سے ثابت ہے ( وقت کی کمی کی وجہ سے میں یہ نہیں بیان کر سکتا کہ جو طریق میں بیان کر رہا ہوں ان کو میں نے کس آیت اور کس حدیث سے استدلال کیا ہے۔مگر اتنا بتا دیتا ہوں کہ یہ سب باتیں قرآن کریم اور احادیث سے لی گئی ہیں ) تو دعا کے قبول ہونے کے ساتھ درود کا بڑا تعلق ہے وہ انسان جو آ محضرت سلی پینم پر درود بھیج کر دعا کرتا ہے اس کی ہر ایک ایسے انسان سے بڑھ کر دعا قبول ہوتی ہے جو بغیر درود کے کرے۔252