دعائیہ سیٹ

by Other Authors

Page 244 of 312

دعائیہ سیٹ — Page 244

جائے گی اور اس وقت تک دعا کرنے سے باز نہیں رہتا۔جب تک کہ خدا تعالیٰ ہی منع نہ کر دے کہ اب یہ دعا مت کرو گو اس کی دعا قبول نہ ہولیکن آخر کار خدا تعالیٰ کے کلام کا شرف تو حاصل ہو گیا کہ خدا نے فرما دیا کہ اب دعا نہ مانگو تو جب تک خدا تعالیٰ نہ کہے اس وقت تک دعا کرنے سے نہیں رکنا چاہئے۔دعا قبول نہ ہو تو بھی انسان کو یہ نہیں چاہئے کہ وہ دعا کرنا چھوڑ دے کیونکہ اگراب قبول نہیں ہوئی تو پھر سہی ، پھر سہی۔دیکھو بعض اوقات جب بچہ ماں باپ سے پیسہ مانگتا ہے تو اسے نہیں بھی ملتا لیکن اس کے بار بار کے اصرار پریل ہی جاتا ہے اسی طرح انسان کو کرنا چاہئے۔اگر ایک دفعہ دعا قبول نہ ہو تو دوسری دفعہ ہی ، دوسری دفعہ نہ ہو تو تیسری دفعہ سہی، تیسری دفعہ نہ ہو تو چوتھی دفعہ ہی حتی کہ کبھی تو ہو ہی جائیگی اس لئے مانگنے سے نہیں رکنا چاہئے حضرت مسیح موعود فرماتے تھے کہ دو قسم کے گدا گر ہوتے ہیں ایک وہ جو دروازے پر آ کر مانگنے کے لئے جب آواز دیتے ہیں تو کچھ لئے بغیر نہیں ٹلتے ان کو نر گدا کہتے ہیں اور دوسرے وہ جو آ کر آواز دیتے ہیں اگر کوئی دینے سے انکار کر دے تو اگلے دروازے پر چلے جاتے ہیں ان کو خر گدا کہتے ہیں۔آپ فرماتے کہ انسان کو خدا تعالیٰ کے حضور خرگرد انہیں بننا چاہئے بلکہ نرگرا ہونا چاہئے اور اس وقت تک خدا تعالیٰ کی درگاہ سے نہیں ہٹنا چاہئے جب تک کچھ مل نہ چکے اس طرح کرنے سے اگر دعا قبول نہ بھی ہوئی ہو تو خدا تعالیٰ کسی اور ذریعہ سے ہی نفع پہنچا دیتا ہے۔پس دوسرا گر دعا کے قبول کروانے کا یہ ہے کہ انسان نرگدا بنے نہ کہ خر گدا اور سمجھ لے کہ کچھ لے کے ہی ہٹنا 244