دعائیہ سیٹ — Page 233
مجبور نہیں ہوتا بلکہ مختار ہوتا ہے۔اس کے اختیار میں ہوتا ہے کہ چاہے تو قبول کرے اس کے لئے وہ مجبور نہیں ہوتا اور چاہے تو رد کر دے اس سے اس پر کوئی الزام نہیں آتا چونکہ خدا تعالیٰ نہ صرف آتا ہے اور ہم خادم بلکہ وہ مالک ہے اور ہم غلام۔پھر وہ خالق ہے اور ہم مخلوق تو جبکہ خادم اور آقا کا تعلق بھی ایسا نازک ہوتا ہے کہ خادم کو کبھی یہ امید نہیں ہوسکتی کہ میرا آقامیری ہر ایک بات کو ضرور ہی مان لے گا تو ایک انسان کس طرح خیال کر سکتا ہے کہ اس کی ہر ایک بات خدا تعالیٰ کو قبول کر لینی چاہئے۔اگر کوئی خادم یہ دعویٰ کرتا ہے کہ اس کی ہر ایک بات اس کا آقامان لیتا ہے تو اس کا یہ دعویٰ جھوٹا ہے۔خادم کو ہمیشہ خدمت کے مقام پر کھڑا رہنا چاہئے اور اپنے رویہ، طریق اور خیالات کو اسی حد تک محدود رکھنا چاہئے جو اس کی خادمیت کے مناسب ہے نہ کہ آقا بننا چاہئے۔قبولیت دعا کی حقیقت پس کسی کا یہ امید کرنا یا ایسا خیال کرنا کہ اگر میری تمام دعائیں خدا قبول کرے اور کسی کو رد نہ کرے تب خدا ، خدا ہوسکتا ہے ورنہ نہیں اس طرح کی بات ہے کہ گویا نعوذ باللہ وہ انسان خدا ہے اور خدا اس کا بندہ۔یہ آتا ہے اور وہ خادم۔یہ مالک ہے اور وہ غلام۔کیونکہ جو کسی کی ہر ایک بات ماننے کے لئے مجبور ہوتا ہے وہ بندہ اور غلام ہوتا ہے۔نہ کہ منوانے والا خادم اور غلام، تو یہ امید کرنا ہی باطل ہے کہ میری تمام کی تمام دعائیں قبول ہو جانی چاہئیں۔یہ خیال کوئی جاہل سے جاہل اور نادان سے نادان انسان کرے تو کرے۔ورنہ دانا نہیں کر سکتا۔گو آج کل کے مسلمانوں میں سے بعض اسی قسم کے خیالات رکھتے ہیں بعض لوگ جو مجھے دعا کے لئے لکھتے ہیں انہیں جواب دیا 233