دُعائے مستجاب

by Other Authors

Page 50 of 173

دُعائے مستجاب — Page 50

دعائے مستجاب۔چیزوں کی محتاج نہیں بلکہ اگر اس کی پیٹھ اکثر گئی ہے تو وہ لیٹا ر ہے اور دُعا کرے۔اگر اس کی زبان پر فالج گرا ہوا ہے اور وہ دُعا کیلئے اپنی زبان ہلا نہیں سکتا تو دماغ میں دعائیہ فقرات کو دہرائے۔۔۔جب تک ایک انسان دنیا میں رہتا ہے اور انسانیت کی حدود سے ادھر اُدھر نہیں ہوتا اس وقت تک معذور سے معذور انسان بھی عمل کر سکتا ہے اور وہ دعا کاعمل ہے۔اسے خدا تعالیٰ نے باقی اعمال سے کم حیثیت نہیں دی بلکہ یقیناً زیادہ حیثیت دی ہے۔سارے قرآن کریم میں خدا تعالیٰ نے یہ کہیں نہیں کہا کہ اگر تم جہاد کرو گے تو میں تمہارے پاس ضرور آ جاؤں گا۔سارے قرآن کریم میں خدا تعالی نے یہ کہیں نہیں کہا کہ اگر تم نماز پڑھو گے تو میں تمہارے پاس ضرور آجاؤں گا۔سارے قرآن کریم میں یہ کہیں نہیں کہا کہ اگر تم روزہ رکھو گے تو میں ضرور تمہارے پاس پہنچ جاؤں گا۔غرض کسی عمل کے متعلق قرآن کریم میں یہ نہیں لکھا کہ اس کے نتیجہ میں ضرور خدا تعالیٰ کا قرب انسان کو حاصل ہو جاتا ہے۔مگر ایک عمل ہے جس کے متعلق خدا تعالیٰ نے کہا ہے کہ اگر کوئی وہ عمل کرے تو میں ضرور اس کے پاس پہنچ جاتا ہوں اور وہ دُعا ہے: أَفَمَنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ وہ کونسی ہستی ہے جو بندہ کی دعائے مضطر سن کر بے تاب ہو کر اس کے پاس آجاتی ہے۔فرمایا۔وہ میں ہوں۔تو یہ عمل سب اعمال سے زیادہ طاقتور ہے کیونکہ طاقتور دراصل وہی عمل ہے جس میں سب بنی نوع انسان شامل 50