دُعائے مستجاب — Page 146
دعائے مستجاب۔بعض نازیبا حرکتیں سر ز ہوئیں۔حضور نے حقیقت حال کو کھول کر بیان فرمایا اور دشمنان جماعت کی مخالفانہ کارروائیوں کا اپنے خطبات میں تفصیل سے ذکر فر ما یا۔اس بیان کے آخر میں حضور نے اپنی ایک خواہش اور دعا کا ذکر کرتے ہوئے ایک ایسا کارآمد ، مفید اور مؤثر اصول بیان فرمایا جس کی افادیت واثر انگیزی نہ پہلے کبھی کم ہوئی تھی اور نہ آئندہ کبھی کم ہوگی۔حضور نے فرمایا: ” میری تمہارے لئے اور اپنی اولاد کیلئے یہی دُعا ہے کہ اللہ تعالیٰ بے غیرتی سے بچائے اور قربانیوں کی توفیق دے۔میں تو یہ پسند کروں گا کہ میرا ایک ایک بچہ مرجائے اور میں بےنسل رہ جاؤں بجائے اس کے کہ سلسلہ کی عزت کے موقعہ پر وہ بے غیرتی دکھائے۔۔۔خوب یا درکھو کہ خدا کے سلسلہ کی ہتک کی گئی ہے اور تمہارا فرض ہے کہ جان مال اور عزت و آبروسب کچھ قربان کر کے اسے قائم کرو اور میں مخلصین جماعت سے امید رکھتا ہوں کہ وہ ایسا ہی کریں گے مگر ان کا طریق وہ نہ ہوگا جو مذہب یا امانت و دیانت کے خلاف ہو۔وہ فساد اور قانون شکنی ہرگز نہ کریں گے اور دونوں حدوں کو قائم رکھتے ہوئے اس وقت تک کام کریں گے جب تک اس کا ازالہ نہیں ہو جاتا اور سلسلہ کی عزت قائم نہیں ہو جاتی۔“ 66 146 الفضل ۱۱ جنوری ۱۹۳۶ء)