دُعائے مستجاب — Page 131
دعائے مستجاب۔سے قابل ڈاکٹر ، لیڈی ڈاکٹر ، نرس اور دیسی دائیوں سے علاج کروانے کے علاوہ ڈیڑھ مہینہ لدھیانہ ہسپتال میں بھی زیر علاج رہی۔اس کے علاوہ حکیموں خاص کر ہمارے خاندان کے ایک حکیم سے جو مہاراجہ کشمیر کے شاہی حکیم رہ چکے تھے علاج کروایا اور ایک دفعہ آپریشن بھی ہوا۔مگر سب کے سب بے سود بلکہ بیماری ترقی پذیر رہی اور ہر ایک دورہ پہلے دورہ سے شدید۔گویا مریضہ موت کے منہ سے واپس ہوتی تھی۔میں چونکہ بنگال میں ملازم ہوں اس لئے کلکتہ اور بنگال کے بعض اور شہروں سے ڈاکٹروں اور نرسوں کے مشورے لئے گئے۔۱۹۲۶ء کے آغاز میں ایک مرے ہمسایہ افسر کی بیوی نے ایک شیشی دوائی جس سے وہ خود اس بیماری سے شفا پا چکی تھی ، دی۔مگر مریضہ کی حالت اور خطرے میں ہوگئی۔گویا مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی ایک شام جب میں اپنی ڈیوٹی سے گھر آیا تو اپنی اہلیہ کو نہایت بیدردی سے روتے پایا۔پوچھنے پر بتایا ” یوں تو خدا جس حال میں رکھے شکر ادا کرنا چاہئے ،مگر مایوس زندگی بھی کوئی زندگی ہے۔میں نے کہا خدا کی رحمت سے مایوس نہیں ہونا چاہئے۔اس کے بعد ہم دونوں نے وہاں بیٹھے بیٹھے یہ عہد کیا کہ اب کوئی دوائی استعمال نہیں کی جائے گی بلکہ دعا اور صرف دعا۔اس دن یا دوسرے دن ہم نے ایک خط حضرت خلیفہ امسیح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ کی خدمت میں دُعا کیلئے لکھا اور میری اہلیہ صاحبہ نے اپنے والد بزرگوار مولوی 131