دُعائے مستجاب

by Other Authors

Page 128 of 173

دُعائے مستجاب — Page 128

دعائے مستجاب۔مکرم علی احمد صاحب ریلوے ملازم حضور کی قبولیت دُعا کا ایک نشان بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: ” میری تعلیم صرف انگریزی مڈل تک ہے۔ملٹری میں قریباً دو سال ڈریسر رہا۔جب ۱۹۱۹ء میں افغانستان کی لڑائی ختم ہوئی تو مجھے ڈسچارج کر دیا گیا۔پھر میں نوکری کیلئے مارا مارا پھرتا رہا اور حضور کو دعا کیلئے لکھنا شروع کر دیا اور ریلوے پولیس میں کنسٹییل بھرتی ہو گیا اور قریباً اڑھائی سال ملازمت کرنے کے بعد سارجنٹ ہو گیا۔۱۹۲۹ء میں میں کراچی سی آئی ڈی میں کام کر رہا تھا کہ میں نے اخبار میں پڑھا کہ داچ اور وارڈ برانچ ریلوے میں کھلنے والی ہے اور سب انسپکٹر، انسپکٹر وغیرہ اس میں رکھے جائیں گے۔میں نے درخواست دے دی اور حضور کو دُعا کیلئے لکھا۔مجھےسلیکشن کیلئے بلایا گیا۔میرے مقابل پر سلیکشن بورڈ کے رو برو بی اے اور کئی ایک وکیل تھے اور کئی ایک ریلوے کا تجربہ رکھنے والے اور ملٹری ریلوے کے ہیڈ کلرک اور انسپکٹر کمرشل برانچ تھے۔میں نے حضور کو متواتر خط دُعا کیلئے لکھنے شروع کئے۔جب سب پیش ہو گئے تو میری باری آئی مجھے انہوں نے صرف انگریزی میں یہ پوچھا کہ تمہارا نام کیا ہے اور موجودہ تنخواہ کیا ہے اور کیا کام کرتے ہو اور مجھے منتخب کرلیا۔میں نے اللہ تعالیٰ کا ہزار شکر ادا کیا اور نیم پاگل سا ہو گیا کیونکہ میں گھبراتا تھا کہ اس پوسٹ پر سب کام انگریزی میں کرنا ہے 128