دُعائے مستجاب

by Other Authors

Page 126 of 173

دُعائے مستجاب — Page 126

دعائے مستجاب۔صاحب میرے ساتھ تھے۔میرے لڑکے نے بچپن کے لحاظ سے کہا کہ ابا جان اگر اس وقت ہمارے پاس کوئی چھلی بھی ہوتی تو بڑا مزہ آتا۔اس وقت یکدم میرے دل میں ایک خیال پیدا ہوا۔لوگ تو خواجہ خضر سے کچھ اور مراد لیتے ہیں مگر میں یہ سمجھا کرتا ہوں کہ خضر ایک فرشتہ ہے جس کے قبضہ میں اللہ تعالیٰ نے دریا ر کھے ہوئے ہیں۔جب ناصر احمد نے یہ بات کہی تو میں نے کہا خواجہ خضر ہم آپ کے علاقہ میں سے گزر رہے ہیں ہماری دعوت کیجئے اور ہمیں کھانے کیلئے کوئی مچھلی دیجئے۔جو نہی میں نے یہ فقرہ کہا ، بھائی جی کہنے لگے آپ نے یہ کیا کہہ دیا کہ خواجہ خضر ہماری دعوت کریں۔اس سے تو بچے کی عقل ماری جائے گی۔مگر ابھی بھائی جی کا یہ فقرہ ختم ہی ہوا تھا کہ یکدم ایک بڑی سی مچھلی کو دکر ہماری کشتی میں آگری۔میں نے کہا لیجئے مچھلی آگئی۔چنانچہ اس کے بعد ہم نے وہ مچھلی پکا کر تبرک کے طور پر ہمراہیوں کو تھوڑی تھوڑی چکھائی کہ یہ ہماری خدا کی طرف سے مہمان نوازی ہوئی ہے۔“ الفضل ۲۲ مئی ۱۹۶۰ء) روز نامہ الفضل ۱۰ ستمبر ۱۹۳۱ء میں حضرت خلیفہ المسح الثانی کی قبولیت دعا کا تازہ نشان کے عنوان سے مندرجہ ذیل ایمان افروز واقعہ درج ہے: وو چند دن ہوئے بنگال کے ایک نوجوان عبد الحفیظ صاحب دینی تعلیم حاصل کرنے کیلئے قادیان میں آئے۔وہ اپنے خاندان میں اکیلے ہی احمدی تھے اور ان کے دوسرے بھائی ان کے سخت مخالف تھے۔126