دُعائے مستجاب

by Other Authors

Page 91 of 173

دُعائے مستجاب — Page 91

دعائے مستجاب۔شرطیں تو ضرور ہیں ایک تو یہ کہ دعا میں تضرع ہو۔عاجزی پائی جائے انسان اپنے قلب میں اس طرح محسوس کرے کہ میں پگھل رہا ہوں اور بالکل گداز ہو گیا ہوں اس کے متعلق حضرت مسیح موعود علیہ السلام سے کئی بار میں نے یہ مثال سُنی ہے کہ جس طرح کباب بنانے والا دیکھتا ہے کہ کباب اندر تک پک گیا ہے یا نہیں۔بہت لوگ ایسے ہوتے ہیں جو دُعا کرتے ہوئے روتے ہیں اور گڑ گڑاتے ہیں مگر ان میں حقیقی گداز پیدا نہیں ہوتا۔پس دُعا کرتے وقت حقیقی تضرع ہو۔زبان اور شکل سے تضرع ظاہر ہونے کے علاوہ قلب بھی پگھل رہا ہو۔عجز ہو۔انکسار ہو اور انسان یہ سمجھے کہ سوائے خدا تعالیٰ کے اور کوئی کچھ نہیں بنا سکتا۔یہ احساس انسان کے ذرہ ذرہ میں ہو۔چاہے کوئی چھوٹی سے چھوٹی بات ہو تو بھی انسان یہی سمجھے اور یہی یقین رکھے کہ سوائے خدا کے کوئی اسے پورا نہیں کر سکتا۔دوسری شرط یہ ہے کہ یقین ہو کہ میری دُعا ضرور قبول ہو جائے گی۔گویا ایک تو یہ یقین ہو کہ خدا تعالیٰ کے سوا کوئی کچھ نہیں کر سکتا۔لیے دوسرے یہ یقین ہو کہ خدا تعالیٰ ضرور یہ کام کر دے گا۔اس یقین سے الگ ہوکر اگر کوئی دعا کرتا ہے تو وہ درحقیقت دعا نہیں کرتا خدا تعالیٰ فرماتا ہے: فَادْعُوا اللهَ مُخْلِصِينَ لَهُ الدِّيْنَ وَلَوْ كَرِهَ الْكَفِرُونَ 91 (المومن : ۱۵)