دُعائے مستجاب — Page 73
دعائے مستجاب۔تمہیں نیا جوڑا بنوادوں۔مگر جب یہ ایسی بیماری میں مبتلا ہوتا ہے کہ اس کے لئے کھانا اور پینا حرام ہو جاتا ہے پانی تک اسے ہضم نہیں ہوتا۔۔۔تو ایسی حالت میں وہ امیر آدمی اس کی مدد نہیں کر سکتا بلکہ اگر کوئی طبیب اچھا ، لائق اور رحم دل ہوتا ہے اور وہ اسے اس حالت میں دیکھتا ہے تو کہتا ہے تمہیں علاج پر پیسہ خرچ کرنے کی توفیق نہیں ہے۔میں تمہیں مفت دوائی دینے کیلئے تیار ہوں۔تم میرے پاس رہو اور اپنے مرض کا علاج کراؤ۔اب اس اضطرار کی حالت میں امیر اس کے کام نہیں آتا بلکہ طبیب اُس کے کام آیا۔جب وہ کپڑوں کے لئے مضطر تھا تو امیر آدمی اُس کے کام آگیا مگر جب وہ علاج کیلئے مضطر ہوا تو ایک طبیب اس کے کام آ گیا۔۔۔تو ایک ہی انسان کے مختلف اضطراروں میں مختلف لوگ اس کے کام آسکتے ہیں لیکن اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: أَفَمَنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ مطلق مضطر جس کے لئے کوئی شرط نہیں کہ وہ کس قسم کا مضطر ہو۔خواہ وہ بھوکا ہو، نگا ہو، پیاسا ہو، بیمار ہو بوجھ اٹھائے جارہا ہو۔کسی قسم کی اضطرار ہو اس کی ساری ضرورتوں کو پورا کرنے والی صرف اللہ تعالیٰ کی ذات ہے۔“ (الفضل ۱۸ را پریل ۱۹۴۲ء) دُعا کی قبولیت کیلئے پر یقین مضطر ضروری ہے حضور فرماتے ہیں: اس لئے یاد رکھو دعا ئیں جب تک مضطر ہو کر نہ کی جائیں یعنی اس یقین کے ساتھ کہ دنیا کی ہر ضرورت کو پورا کرنے والی ہستی صرف اور صرف 73