دُعائے مستجاب

by Other Authors

Page 72 of 173

دُعائے مستجاب — Page 72

دعائے مستجاب۔سے آنے والے ابتلاؤں سے کوئی پناہ کی جگہ نہیں۔کوئی نجات کی جگہ نہیں۔سوائے اس کے کہ میں سب طرف سے مایوس ہوکر اور آنکھیں بند کر کے تیری طرف آجاؤں تو لا مَلْجَأَ وَلا مَنْجَا والی جو حالت ہے یہی اضطرار کی کیفیت ہے اور جب خدا نے قرآن میں کہا: أَفَمَنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَ اذَا دَعَاهُ بتاؤ مضطر کی کون سنتا ہے۔تو مضطر کے معنی یہی ہوئے کہ ایسے شخص کی دُعا جو اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو اپنا ملا و مجا نہیں سمجھتا اور اللہ تعالیٰ کے سوا کسی کو اپنا ملجاو منجا قرار نہیں دیتا اور اس آیت میں کہ أَفَمَنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَ اذَا دَعَاهُ در حقیقت اسی کیفیت اضطرار کی طرف اشارہ کیا گیا ہے۔اضطرار دنیا میں کئی قسم کے ہوتے ہیں اسی لئے یہاں مضطر کا لفظ رکھا گیا ہے۔جس کے معنی تمام قسم کے مضطر کے ہیں۔بعض بندے دُنیا میں اس قسم کے ہوتے ہیں اور گو حقیقتا اللہ تعالیٰ ہی ہر مضطر کا علاج ہے مگر اس کے دیئے ہوئے انعام کے ماتحت کوئی بندہ بھی ان کے اضطرار کو بدلنے کی طاقت رکھتا ہے چنانچہ بعض دفعہ ایک آدمی سخت غریب ہوتا ہے۔اس کے کپڑے پھٹ جاتے ہیں اور اُسے نظر نہیں آتا کہ وہ نئے کپڑے کہاں سے بنوائے۔ایک امیر آدمی جو بعض دفعہ ہندو ہوتا ہے۔بعض دفعہ سکھ ہوتا ہے۔بعض دفعہ پارسی ہوتا ہے۔اسے دیکھتا ہے اور کہتا ہے تمہارے کپڑے پھٹ گئے ہیں آؤ 72