دُعائے مستجاب — Page 71
دعائے مستجاب۔صرف ایک جہت اس کے سامنے خدا تعالی والی باقی رہ جاتی ہے اور اسی پر اس کی نظر پڑتی ہے اور سب جگہ اُسے آگ ہی آگ دکھائی دیتی ہے مگر صرف ایک طرف اسے امن نظر آتا ہے۔اس سے تم سمجھ سکتے ہو کہ مضطر کے معنوں میں یقین پایا جانا ضروری ہے۔مضطر کے صرف یہی معنی نہیں ہیں کہ اس کے دل میں گھبراہٹ ہو کیونکہ گھبراہٹ میں بعض دفعہ ایک شخص بے تحاشہ کسی طرف چل پڑتا ہے بغیر اس یقین کے کہ جس طرف وہ جارہا ہے وہاں امن بھی حاصل ہوگا یا نہیں بلکہ بعض لوگ گھبراہٹ میں ایسی جگہ چلے جاتے ہیں جہاں خود خطرہ موجود ہوتا ہے اور وہ اس سے بچ نہیں سکتا۔پس محض اضطراب کا دل میں پیدا ہونا اضطرار پر دلالت نہیں کرتا۔اضطرار پر وہ حالت دلالت کیا کرتی ہے جب چاروں طرف پناہ کی کوئی جگہ انسان کو نہ نظر آتی ہو اور ایک طرف نظر آتی ہو۔گویا اضطرار کی نہ صرف یہ علامت ہے کہ چاروں طرف آگ نظر آتی ہو بلکہ یہ بھی علامت ہے کہ ایک طرف امن نظر آتا ہو اور انسان کہ سکتا ہو کہ وہاں آگ نہیں ہے۔تو وہی دُعا خدا تعالیٰ کے حضور قبول کی جاتی ہے جس کے کرتے وقت بندہ اس رنگ میں اس کے سامنے حاضر ہوتا ہے کہ اسے یقین ہوتا ہے کہ سوائے خدا کے میرے لئے اور کوئی پناہ کی جگہ نہیں ہے۔یہی وہ مضطر کی حالت ہے جسے رسول کریم اللہ ہی ہم نے ان الفاظ میں ادا فرمایا ہے: لَا مَلْجَأَ وَلاَ مَنْجَا مِنْكَ إِلَّا إِلَيْكَ اے خدا لا مَلْجَأَ وَلاَ مَنْجَا مِنْكَ تیرے عذاب اور تیری طرف 71