دُعائے مستجاب

by Other Authors

Page 70 of 173

دُعائے مستجاب — Page 70

دعائے مستجاب۔دُعا کس طرح کی جاوے قبولیت دعا کیلئے بنیادی شرط یہ ہے کہ دُعا پر ایمان و یقین ہو۔اس ضروری امر کی وضاحت کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں: سب سے پہلے دعا پر ایمان اور یقین پیدا ہو۔جو شخص بغیریقین کے دُعا مانگتا ہے اس کی دُعا خدا تعالیٰ کے حضور میں قبول نہیں ہوا کرتی۔ہوسکتا ہے کہ کبھی ایسے شخص کی دعا قبول ہو جائے۔صرف نمونہ کے طور پر اور اس کے دل میں یقین پیدا کرنے کیلئے لیکن قانون کے طور پر اسی شخص کی دُعا قبول ہوتی ہے جس کے دل میں یقین ہوتا ہے کہ خدا میری سنے گا چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: أَفَمَنْ يُجِيبُ الْمُضْطَرَّ إِذَا دَعَاهُ کہ مضطر کی دُعا کون سنتا ہے؟ اور پھر فرماتا ہے اللہ تعالیٰ ہی سنتا ہے اور مضطر کے معنی عربی زبان میں یہ ہوتے ہیں کہ کسی کو چاروں طرف سے دھکے دے کر کسی طرف لے جائیں جو چاروں طرف سے رستہ بند پا کرکسی ایک طرف کو جاتا ہے۔اسی کو مضطر کہتے ہیں۔یعنی وہ ہر طرف آگ دیکھتا ہے۔اپنے دائیں دیکھتا ہے تو اسے آگ نظر آتی ہے۔اپنے بائیں دیکھتا ہے تو اُسے آگ نظر آتی ہے اپنے پیچھے دیکھتا ہے تو اُسے آگ نظر آتی ہے۔اپنے نیچے دیکھتا ہے تو اسے آگ نظر آتی ہے۔اپنے اوپر دیکھتا ہے تو اسے آگ نظر آتی ہے۔70