دُعائے مستجاب — Page 51
دعائے مستجاب۔ہوں اور جو عمل تمام روئے زمین کے انسانوں کو مساوات کے میدان میں لے آئے۔نماز میں امتیاز ہوسکتا ہے کیونکہ ممکن ہے ایک شخص کھڑا ہو کر نماز پڑھے اور دوسرا بیٹھ کر۔روزہ میں امتیاز ہوسکتا ہے کیونکہ ممکن ہے ایک شخص میں روزہ رکھنے کی طاقت ہو مگر دوسرے میں نہ ہو تبلیغ میں امتیاز ہوسکتا ہے کیونکہ ممکن ہے ایک کو تبلیغ کرنی آتی ہو اور دوسرے کو نہ آتی ہو یا وہ علم نہ رکھتا ہو۔یا تبلیغ کی طاقت نہ رکھتا ہو۔اس طرح جہاد۔تربیت اور لین دین کے معاملات میں امتیاز نظر آجائے گا۔اور مجبوری کا امتیاز ہوگا مگر دُعا میں مجبوری کا کوئی امتیاز نہیں۔ہاں مرضی کا امتیاز ہوسکتا ہے لیکن بہر حال دُعا ایک ایسی چیز ہے کہ وہ گونگا جس کی زبان نہیں وہ بہرہ جس کے کان نہیں وہ مفلوج جس کے جسم کی جس ماری گئی ہو اور گوشت کا ایک لوتھڑا بن کر چار پائی پر پڑا ہوا ہو وہ بھی اسی جوش و خروش سے اپنے رب کے حضور دُعا کا ہدیہ پیش کرسکتا ہے۔جس طرح ایک تندرست اور طاقتور انسان اور اس عمل میں بنی نوع انسان میں قطعاً کوئی امتیاز نہیں ایک چارپائی پر پڑا ہوا بے حس انسان بھی جس میں حرکت کرنے کی تاب نہیں اپنے خدا کے حضور دعا کے ذریعہ عقیدت کا ہدیہ پیش کر سکتا ہے اور وہ بھی خدا تعالیٰ کے فضلوں کو اسی طرح جذب کر سکتا ہے۔جس طرح اور انسان جو نماز پڑھتے روزہ رکھتے اور احکام اسلامی پر عمل کرنے کی طاقت رکھتے ہیں۔پس دعا وہ چیز ہے جس نے دنیا کے تمام چھوٹوں اور بڑوں اور امیروں اور غریبوں کو ایک سطح پر لا کر کھڑا کر دیا 51