دُعائے مستجاب

by Other Authors

Page 36 of 173

دُعائے مستجاب — Page 36

دعائے مستجاب۔رسوم ادا کرتے ہیں اسی طرح بعض مذہبی لوگ اپنے جلسوں کا افتتاح دُعا کے ساتھ کرتے ہیں مگر ان کی دُعائیں ان کے ہونٹوں سے نیچے قلوب سے نہیں نکل رہی ہوتیں اور پھر ان کے ہاتھوں کے فاصلے سے آگے پرواز نہیں کرتیں۔ان کی دُعائیں زبانوں سے نکل کر ہونٹوں تک آکر رہ جاتی ہیں نہ ان کے دل سے نکلتی ہیں نہ خدا تعالیٰ کے عرش کو ہلاتی ہیں۔وہ ایک جسم ہوتی ہیں۔بلا روح کے یا ایک تلوار ہوتی ہے جس کی دھار بالکل کند ہوتی ہے بلکہ اگر میں قرآن کے الفاظ کی ترجمانی کروں تو میں کہوں گا کہ وہ ایسی تلوار ہوتی ہیں جس کی دھار تو گند ہوتی ہے جو دشمن پر پڑتی ہے لیکن اس کی دوسری طرف بہت تیز ہوتی ہے جو ایسی تلوار چلانے والے کو کاٹ دیتی ہے کیونکہ خدا تعالیٰ کہتا ہے: فَوَيْلٌ لِلْمُصَدِّينَ الَّذِينَ هُمْ عَنْ صَلَاتِهِمْ سَاهُونَ اللَّ وہ دُعا بجائے اس کے کہ کوئی مفید اثر پیدا کرے اسی کو کاٹ دیتی ہے جو ایسی دُعا کرتا ہے کیونکہ وہ خداوند خدا زمین و آسمان کے خالق خدا سے ہنسی اور تمسخر ہوتا ہے۔پس اے میرے دوستو ، عزیز و اور بھائیو ہماری دُعا ہمارے دلوں سے نکلے۔خدا تعالیٰ پر یقین اور ایمان رکھتے ہوئے نکلے تا کہ اللہ تعالیٰ کے حضور مقبول ہو۔ہمارے لئے بابرکت ہو اور ہماری کوششیں اور محنتیں ضائع نہ ( الفضل یکم جنوری ۱۹۲۹ء) ہوں۔66 36