دُعائے مستجاب — Page 35
دعائے مستجاب۔نہیں اور کون کہہ سکتا ہے کہ کل اس کے ماں باپ اور بیوی بچے اس کی آنکھوں کے سامنے زخمی نہ پڑے ہوں گے۔پس دُعائیں کرو۔دعائیں کرد۔۔۔اور دعائیں کردو۔۔۔اتنی دعائیں کرو کہ عرش الہی ہل جائے اور خدا تعالیٰ کا فضل دنیا کو بھی اور ہمیں بھی مل جائے۔بے شک یہ عبرت کے سامان ہیں جن سے لوگوں کو ہدایت ہوسکتی ہے لیکن اللہ تعالیٰ چاہے تو وہ دنیا کو بغیر تباہ کئے بھی ہدایت دے سکتا ہے۔پس میں آج یہ باتیں واضح طور پر بیان کر کے اپنی ذمہ داری سے سبکدوش ہوتا ہوں۔گواس کا یہ مطلب نہیں کہ پھر کبھی نہیں کہوں گا۔مگر آج میں نے وضاحت سے بتا دیا ہے کہ یہ دن بہت گھبراہٹ اور خطرہ کے دن ہیں۔ان کو رو رو کر گزارو اور ایسا اضطرار تمہارے اندر ہونا چاہئے کہ کھانا مشکل ہو جائے اور پانی حلق میں پھنسے اور نیندیں حرام ہو جائیں اور تم سے ایسا اضطرار ظاہر ہو کہ اللہ تعالیٰ فیصلہ کر دے کہ اس مومن کے اضطرار نے میرے عرش کو ہلا دیا ہے اور وہ۔۔۔دنیا پر رحم ( الفضل ۴ جون ۱۹۴۱ء) فرمائے۔“ حقیقی دعائیں کس طرح کی ہوتی ہیں۔اس امر پر روشنی ڈالتے ہوئے حضور فرماتے ہیں: ”ہماری دعائیں حقیقی دعائیں ہونی چاہئیں جس طرح دنیا میں اور رسمیں ہیں جنہیں ادا کیا جاتا ہے۔اسی طرح دُعائیں بھی لوگ رسمی طور پر کرتے ہیں۔جس طرح دنیا دار لوگ اپنے جلسوں کے افتتاح کے موقعہ پر بعض قومی 35