دُعائے مستجاب — Page 151
دعائے مستجاب۔بھی ہدایت نصیب کرے اور ان کی گالیوں کو دعاؤں میں بدل دے اور اگر انکے اعمال کو دیکھتے ہوئے وہ انکی تباہی کا ہی فیصلہ کر چکا ہے تو پھر ہماری دُعا یہ ہے کہ وہ۔۔۔ہماری زندگیوں میں ہوں تا ہم اس کے ثواب میں حصہ دار ہوسکیں۔“ (الفضل ۹ جون ۱۹۳۷ء) بعض خصوصی دعاؤں کی تحریک کرتے ہوئے حضور فرماتے ہیں: ضرورت اس بات کی ہے کہ تم استقلال سے دعاؤں میں لگے رہو وہ لوگ جو جذباتی باتوں سے متاثر ہوکر چند دن جوش دکھاتے ہیں اور پھر جھاگ کی طرح بیٹھ جاتے ہیں وہ اللہ تعالیٰ کی رحمت کے نہیں بلکہ اس کے غضب کے مستحق ہیں۔پس اپنے اندر بیداری اور ہوشیاری پیدا کرو۔دوستوں کو ہوشیار اور بیدار کرو۔اپنے ہمسایوں کو ہوشیار اور بیدار کرو اور کسی کوسست ہو کر بیٹھنے نہ دو۔پھر تم دیکھو گے کہ دنیا میں کس قدر تغیرات ہوتے ہیں۔۔۔خصوصیت سے دعاؤں میں لگ جاؤ اور بالخصوص یہ دعا کرو کہ الهُمَّ إِنَّا نَجْعَلُكَ فِي نُحُوْرِهِم وَنَعُوذُ بِكَ مِنْ شُرُوْرِهِمْ اور رَبِّ كُلِّ شَيْءٍ خَادِمُكَ رَبِّ فَاحْفَظْنِي وَانْصُرْنِي وَارْحَمْنِي اس کے علاوہ اور تبھی دعائیں اپنی زبان میں کرو جنہیں دلی جوش 151