دُعائے مستجاب — Page 145
دعائے مستجاب۔حضرت المصلح الموعودؓ کی بعض دُعا ئمیں حضرت فضل عمر کی دعاؤں سے یہ حقیقت واشگاف ہوتی ہے کہ ایک دُعا گوجب اپنی کسی ضرورت اور مشکل کے وقت خدا تعالیٰ کے حضور عجز و نیاز سے جھک کر اس کی تائید و نصرت اور پیار و محبت کے سلوک سے نوازا جاتا ہے تو اُس کی دعاؤں میں سوز و رقت اور یقین و توکل کا ایک نہایت پیارا امتزاج پیدا ہو جاتا ہے۔اس کی بعض مثالیں پیش خدمت ہیں : حضور اپنی معرکۃ الآراء تقاریر ”سیر روحانی“ کے سلسلہ کی ایک تقریر کے آخر میں فرماتے ہیں: سب سے زیادہ تو یہ دُعا مانگو کہ ہم میں سے ہر ایک کو اللہ تعالیٰ سچا عبد اور اپنے دین کی خدمت کرنے والا بنائے اور ہم سے کوئی ایسی کمزوری ظاہر نہ ہو جس کی وجہ سے اسلام کو ، قرآن کو ، رسول اللہ صلی یتیم کے دین کو نقصان پہنچے بلکہ اللہ تعالیٰ ہم کو دین کی خدمت کی ایسی توفیق دے کہ ہمارے ذریعہ سے اسلام پھر طاقت پکڑے اور قوت پکڑے اور ہم اپنی آنکھوں سے خدا اور اس کے رسول صلیہ اسلام کی بادشاہت اس دنیا میں دیکھ لیں۔“ ( سیر روحانی جلد سوم صفحه ۲۸۷) ۱۹۳۶ء میں انگریز حکومت کے بعض افسروں کی طرف سے جماعت کے تعلق میں 145