دُعائے مستجاب

by Other Authors

Page 129 of 173

دُعائے مستجاب — Page 129

دعائے مستجاب۔اور مجھے انگریزی آتی نہیں۔میں کیا کام کروں گا۔لیکن خدا تعالیٰ نے مجھے انگریزی بھی خود سکھا دی۔ابھی میری ملازمت کے قریباً ۶ ماہ ہی گزرے تھے کہ میرے افسر نے میری ڈائری بطور نمونہ سب انسپکٹروں کے پاس بھیجی اور ان کو ہدایت کی کہ ایسا کام کیا کرو۔۱۹۳۲ء میں پھر ریلوے میں ایک نمی شروع ہوگئی اور لاہور سے حکم آگیا کہ سب انسپکٹروں کی پوسٹ اڑا دی جائے۔بعد میں ہمیں حکم آگیا کہ سب انسپکٹروں کی آسامی کیلئے چانس دیا جائے گا۔حضور کو دعا کیلئے تار دیا۔۔۔حضور کی دعا سے اللہ تعالیٰ نے مجھے کامیاب کیا۔“ (الفضل ۱۸ جنوری ۱۹۴۰ء) مکرم ڈاکٹر کریم الدین صاحب میڈیکل آفیسر گجرات لکھتے ہیں : اوائل نومبر ۱۹۳۳ء میں خاکسار کا اکلوتا لڑکا فوت ہو گیا۔خاکسار جب سالانہ جلسہ پر قادیان گیا تو حضرت اقدس کی خدمت میں ایک دستی عریضہ پیش کیا جس میں عزیز کی وفات کا ذکر کر کے دعا کی التجا کی۔حضور کی طبیعت اس دن علیل تھی اور ویسے بھی جلسہ کے دنوں میں حضور نہایت مصروف ہوتے ہیں اس لئے کسی جواب کی توقع نہ تھی لیکن حضور نے نہایت شفقت اور ذرہ نوازی فرماتے ہوئے مندرجہ ذیل کلمات اپنے دست مبارک سے رقم فرما کر عطا فرمائے : عزیز مکرم ! السلام علیکم ورحمۃ اللہ و برکاته 129