دُعائے مستجاب — Page 127
دعائے مستجاب۔یہاں آنے کے بعد ان کے بڑے بھائی خوند کر عبد الرب صاحب۔۔۔نے خط لکھا کہ میں ایک سخت مصیبت میں مبتلا ہوں۔تم اپنے حضرت صاحب سے دعا کراؤ کہ میں اس مصیبت سے نجات پاجاؤں۔اگر مجھے نجات حاصل ہوگئی تو میں جماعت احمد یہ میں داخل ہو جاؤں گا۔عبدالحفیظ صاحب نے ان کے لئے حضرت خلیفہ المسیح الثانی سے دعا کی درخواست کی اور حضور نے تسلی دلائی۔اس کی اطلاع انہوں نے اپنے بھائی کو بھیج دی۔اب ان کی طرف سے خط آیا کہ جس میں وہ لکھتے ہیں : I have been save from the trouble by the grace of Allah and the dua of Hazoor (His holiness)۔I accepted the Ahmadiyya on the very moment when I was safe from the trouble۔یعنی میں خدا کے فضل اور حضرت صاحب کی دعا سے بچ گیا ہوں اور میں نے اس وقت احمدیت قبول کر لی جس وقت مجھے اس مصیبت سے نجات ملی۔خدا تعالیٰ ہمارے اس بھائی کو استقامت عطا فرمائے اور احمدیت کی برکات سے بہرہ اندوز ہونے کی توفیق بخشے۔آمین۔127