دُعائے مستجاب — Page 125
دعائے مستجاب۔تعالیٰ اپنی قدرت ظاہر کرنا چاہتا ہے کہ جنگل میں سے گزرتے ہوئے یہ دُعا میرے دل سے نکلی۔حاجی غلام احمد اور چوہدری عبد السلام صاحب میرے ساتھ تھے۔اتنے میں چلتے چلتے ایک گاؤں آ گیا اور ہم نے دیکھا کہ اس گاؤں کے دو چار آدمی ایک مکان کے باہر کھڑے ہیں۔حاجی صاحب اور چودھری صاحب ان کو دیکھتے ہی میرے دائیں بائیں ہو گئے اور کہنے لگے۔اس گاؤں کے لوگ احمدیت کے سخت مخالف ہیں اگر کوئی احمدی ان کے گاؤں میں سے گزرے تو یہ لوگ اُسے مارا پیٹا کرتے ہیں۔آپ درمیان میں ہو جائیں تا کہ یہ لوگ آپ کو کوئی نقصان نہ پہنچا سکیں۔اتنے میں ان میں سے ایک شخص نے جب مجھے دیکھا تو میری طرف دوڑ پڑا انہوں نے سمجھا کہ شاید حملہ کرنے کیلئے آیا ہے۔مگر جب وہ میرے قریب پہنچا تو اس نے سلام کیا اور ہاتھ بڑھا کر ایک روپیہ پیش کیا کہ یہ آپ کا نذرانہ ہے۔گاؤں سے باہر نکل کر وہ دوست حیران ہو کر کہنے لگے۔ہمیں ڈر تھا کہ یہ شخص ہم پر حملہ نہ کر دے، مگر اس نے تو نذرانہ پیش کر دیا۔میں اس وقت ان کی بات سے یہ سمجھا کہ اللہ تعالیٰ نے میرے دل میں یہ خیال غالباً اسی لئے پیدا کیا تھا کہ وہ اپنی قدرت کو ظاہر کرنا چاہتا اور بتانا چاہتا تھا کہ لوگوں کے دل میرے اختیار میں ہیں۔غرض جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے رزق آتا ہے تو ایسی ایسی جگہوں سے آتا ہے کہ انسان کو اس کا وہم و گمان بھی نہیں ہوتا۔ایک دفعہ میں کشتی میں بیٹھا دریا کی سیر کر رہا تھا اور بھائی عبد الرحیم 125