دُعائے مستجاب — Page 97
دعائے مستجاب۔وہ جانتا ہے کہ خدا اس کی دُعا سنے گا اور آخر میں بھی حمد کرتا ہے کیونکہ سمجھتا ہے کہ خدا نے اس کی دُعا سن لی۔یہی اصل مقام ہے جس پر جب انسان پہنچ جاتا ہے تو اس کی ہر ایک دعاسنی جاتی ہے۔اب میں یہ بتاتا ہوں کہ وہ کیا بات ہے کہ جو سنی ہوئی دُعا نظر نہیں آتی وہ بھی سن لی جاتی ہے۔اصل بات یہ ہے کہ حقیقی خیر خواہ وہ ہوتا ہے جو ایسا کام کرے جس میں دوسرے کا فائدہ ہو۔ایک نادان بچہ اگر ماں سے کہے کہ مجھے سنکھیا کھلا دو تو کیا وہ کھلا دے گی؟ ہر گز نہیں اور جب ماں اپنے بچے کی یہ بات نہیں سنے گی تو ہم یہی کہیں گے کہ اُس نے بچے کی بات سُن لی کیونکہ بچے کی خواہش تو یہ بھی تھی کہ اُسے فائدہ حاصل ہو اور اسے فائدہ اسی صورت میں پہنچا کہ اس کی بات نہ مانی گئی۔اسی طرح خدا تعالیٰ سے دُعا کرنے کی اصل غرض یہی ہوتی ہے کہ انسان فائدہ اُٹھائے۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے اگر تمہیں یہ یقین ہو کہ خدا تمہاری دعا ضرور سنے گا تو ہم ضرور نہیں ہر موقعہ پر تباہ ہونے سے بچالیں گے۔اگر کسی کو ملیریا بخار چڑھا ہوا ہو اور وہ کونین مانگے تو اُسے کونین دینا اس کیلئے مفید ہوگا لیکن اگر تپ محرقہ ہو اور پھر کونین مانگے تو اس صورت میں کو نین دینا اس کی بات نہ سننا ہوگی اور اگر نہ دی جائے تو یہ سننا ہوگی۔اس کی کونین مانگنے سے غرض مرنا تھی یا صحت حاصل کرنا۔یقیناً اس کی غرض صحت حاصل کرنا ہوگی۔اور اس کیلئے ضروری ہوگا کہ اُسے کو نین نہ دی جائے اور اس طرح اس کی بات سنی جائے۔اسی طرح جو شخص اپنے 97