دُعائے مستجاب

by Other Authors

Page 49 of 173

دُعائے مستجاب — Page 49

دعائے مستجاب۔ہیں۔پس چونکہ انسان کے نیک ارادے اور نیک خیال میں امتیاز مشکل ہو ہے اس لئے وہ امتیاز عمل سے ظاہر ہو جاتا ہے۔نیک ارادہ کے ماتحت انسان سے آپ ہی آپ اس کے مطابق عمل بھی ظاہر ہونا شروع ہوجاتا ہے لیکن نیک خیال کے ماتحت عمل کا پیدا ہونا ضروری نہیں ہوتا۔پس نیک ارادہ اور نیک خیال میں یہی فرق ہے کہ نیک بات کے متعلق خیال پیدا ہو کر بھی عمل کی حالت ابھی بہت دُور ہوتی ہے لیکن نیکی کے ارادہ کے بعد ساتھ ہی عمل بھی شروع ہو جاتا ہے جس سے صاف معلوم ہو جاتا ہے کہ ایک نے صرف خیالات تک اپنے آپ کو محد و در کھا اور دوسرے نے عمل بھی شروع کر دیا مگر بہر حال یہ سوال پھر بھی رہ جاتا ہے کہ وہ کمزور اور بے کس جنہیں خدا تعالیٰ نے اپنی آواز پر لبیک کہنے کی توفیق دی مگر سامانوں کی عدم موجودگی کی وجہ سے وہ کوئی خدمت دین کا کام نہیں کر سکتے۔ان کیلئے کون سا ایسا ذریعہ ہے جس سے ان کی عملی قوت برقرار رہے اور وہ بھی کہہ سکیں کہ ہم نے بھی خدا تعالیٰ کے دین کیلئے جو طاقتیں ہمیں میسر تھیں لگا دیں۔وہ عمل۔۔۔دُعا ہے ان اعمال میں سے ہے جن کیلئے کسی مال کی ضرورت نہیں۔کسی علم کی ضرورت نہیں۔کسی فن کی ضرورت نہیں۔کسی طاقت وقوت کی ضرورت نہیں۔اگر کسی کے ہاتھ نہیں کہ وہ ہاتھ اٹھا کر دُعا کر سکے۔اگر کسی کی کمر میں ہلنے جلنے کی طاقت نہیں کہ وہ چار پائی سے اُٹھ کر نماز کی حرکات ادا کر سکے۔تب بھی وہ دعا کر سکتا ہے کیونکہ دعا ان 49