دُعائے مستجاب

by Other Authors

Page 144 of 173

دُعائے مستجاب — Page 144

دعائے مستجاب۔علاج کیا مگر بالکل افاقہ نہ ہوا بلکہ مرض اور بھی بڑھتا گیا آخر مایوس ہوکر علاج چھوڑ دیا۔زیادہ گھبرا جانے کی حالت میں رو پڑتی تھی۔آخر دل میں خیال آیا کہ میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی کو دُعا کے لئے لکھوں۔جب دل میں یہ خیال آیا تو دس بجے رات کا وقت تھا۔اسی وقت میں نے ایک نہایت ہی گھبراہٹ اور کرب کا خط حضور کی خدمت میں لکھا کہ دُعا فرمائیں۔خدا تعالیٰ مجھ کو اس مرض سے نجات بخشے۔جب میرے خط کا جواب حضور کی طرف سے آیا کہ دعا کی گئی ہے مجھ کو اس وقت بالکل آرام تھا اور میری صحت ایسی تھی کہ گویا کوئی مرض تھا ہی نہیں۔سُبحان الله وبحمده سبحان الله العظیم۔شکر ہے مہربان خدا کا لاکھ لاکھ بار جس نے مجھ پر اتنا فضل وکرم کیا۔اس واقعہ کوکئی ماہ کا عرصہ گزر چکا ہے کہ میں نے کبھی اس مرض کی حرارت اپنے بدن میں محسوس نہیں کی اور آئندہ کیلئے بھی مجھ کو خدا کے فضل و کرم سے ایسا یقین ہے جیسے پتھر پر لکیر بلکہ اس سے بھی زیادہ کہ مجھ کو یہ مرض پھر کبھی بھی نہ ہوگا۔“ الفضل ۲ جنوری ۱۹۴۳ء) 00 144