دُعائے مستجاب

by Other Authors

Page 136 of 173

دُعائے مستجاب — Page 136

دعائے مستجاب۔ہو کر کہا۔میں تمہارے ساتھ کیا سلوک کروں۔آغا نے کہا جو خدا کو منظور ہو۔خدا تعالیٰ کا کچھ ایسا تصرف ہوا کہ مجسٹریٹ نے سات سال کی بجائے صاف بری کر دیا۔الحمد للہ علی ذالک۔فیروز والہ ضلع گوجرانوالہ کے ایک دوست رحمت علی صاحب زمیندار دعا کی برکت سے پھانسی کے پھندہ سے نجات پانے کا واقعہ بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں: احقر نے حضرت خلیفہ امسیح الاوّل کے ہاتھ پر بیعت کی تھی مگر بوجہ جری سوسائٹی اور جاہلانہ مصروفیتوں کے عاجز نہ تو کوئی دینی خدمت ہی کر سکا اور نہ کبھی ایسا خیال پیدا ہوا۔۔۔گذشتہ سال یعنی جولائی ۲۶ ء میں ایک قتل اور ایک مضروب کرنے کے جرم میں احقر مع دیگر چار اشخاص کے ۳۰۲۔۳۰۷ تعزیرات ہند کی رُو سے عدالت میں چالان کیا گیا۔جہاں سے بعد تحقیقات ۱۵ جنوری ۱۹۲۷ء کو سیشن جج گوجرانوالہ نے میرے تین ساتھی ملزمان کو رہا کر دیا اور عاجز اور میرے چچا زاد بھائی حیدر کو دفعہ ۳۰۲ کے ماتحت پھانسی اور دفعہ ۳۰۷ کے ماتحت حبس و وام بعبور دریائے شور کی سزائیں دیں۔بندہ نے اسی وقت درد دل سے اللہ تعالیٰ کے حضور دعا کی کہ خداوند اب ایسے اسباب پیدا کر کہ میری اپیل ہائی کورٹ میں دائر ہو جائے۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے میری دعا کو فوراً قبول کیا اور چوہدری محمد 136