حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 28 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 28

ارشاہ صاحب باب اول۔۔۔۔۔۔ابتدائی حالات سے کہا کہ میری نمازوں کی کیفیت پہلے جیسی نہیں رہی۔میرا اندازہ ہے کہ اس خاندان کی آمد میں حرام کی ملونی ہے۔چنانچہ آپ وہاں سے فوراوا پس رعیہ چلی گئیں۔تابعین احمد ، جلد سوم ، با رسوم صفحه ۲۴، ۲۵ ) إِنَّ أَكْرَمَكُمْ عِنْدَ اللَّهِ أَتْقَاكُمُ محترمہ حمیدہ بیگم صاحبہ بیان کرتی ہیں :- ”میری نانی صاحبہ اور ہمشیرہ صاحبہ کی رہائش بدوملہی ضلع سیالکوٹ میں تھی۔دونوں احمدی تھیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ان کو اپنے صاحبزادوں کی شادی پر بلایا تھا۔نانی صاحبہ بہت مد براورد بیدار تھیں۔غلہ آنے پر غرباء کو دیتی تھیں۔سوت کات کر پار چات تیار کرتیں اور موسم سرما میں غریب طبقہ میں تقسیم کرتی تھیں۔حضرت ڈاکٹر صاحب رعیہ میں متعین تھے۔آپ کے خاندان سے میرے نانا کے خاندان و میری نانی صاحبہ اور ہمشیرہ صاحبہ کا بہت پیار تھا۔ہم رعیہ ملنے جاتے۔ڈاکٹر صاحب اور اماں جان ( والدہ سیدہ ام طاہر صاحبہ ) بڑے پیار سے پیش آتے۔میری ہمشیرہ کی بہن خیر النساء صاحبہ سے بہت پیار محبت تھی۔میری ہمشیرہ کے ہاں بہت مدت کے بعد بچی عطاء ہوئی۔تین چار دن بعد ہمشیرہ بہت بیمار ہوگئیں۔شاہ صاحب نے انہیں علاج کے لئے اپنے پاس بلایا۔ایک دو دن بعد ہمشیرہ نے کہا۔مجھے بدوملہی (تحصیل وضلع نارووال ) واپس لے چلو۔میرے آخری دن قریب ہیں۔ساتویں روزان کی وفات ہوگئی۔اِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ رعیہ میں سیدہ مریم بیگم صاحبہ سے میں خوشی سے کھیلتی۔وہ ابھی چھوٹی تھیں۔اور کھیلتی پھرتی تھیں۔میری شادی کی بارات گجرات سے آئی اور شاہ صاحب کے ہاں ٹھہری۔اور آپ نے اپنے نوکر کے ذریعہ بدوملہی اس کی اطلاع دی تا کہ بارات کو ۲۸