حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 199 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 199

شاہ صاحب باب ہفتم۔مکان اور ( بیت ) اور چار دیواری اور تالاب کا انتظام کرو۔اور اس مکان کو بطور مشترکہ بیت الدعاء مقرر کر لیا جائے اور جب کسی پر خدانخواستہ کوئی مصیبت یا ابتلاء اور کوئی مشکل خدانخواستہ بن جائے تو یہاں آکر چند روز قیام پذیر ہو کر ان مشکلات کی مشکل کشائی کیلئے در د دل اور تضرع اور اضطرار کے ساتھ بارگاہ الہی میں جھکے اور بجز و نیاز اور خشوع سے اپنی روح کو اس کے آستانہ پر گرا کر دعائیں مانگی جاویں تو انشاء اللہ تعالیٰ سب مشکلات اور تکالیف حل و رفع ہو جاویں گی۔الا ماشاء اللہ۔دہم اپنی اپنی نسلوں کے لئے بھی اسی طرح تم سب سلسلہ وصایا اور نصائح کا جاری کرتے رہو۔یاز دہم اپنے ذوی الارحام اقرباء کے ساتھ خصوصاً ہمدردی اور محبت قلبی سے مخلصانہ برتاؤ ہمیشہ کرتے رہو کیونکہ ذوی الارحام سے قطع تعلق سخت مجرم اور اس قدر خطر ناک گناہ ہے کہ شرک کے بعد یہ دوم درجہ پر ہے۔اس واسطے ایسے گناہ قطع رحمی سے بہت محترز رہو۔کیونکہ حدیث شریف میں ہے کہ قیامت کو قاطعانِ صلہ رحم کے خلاف رحم بارگاہ الہی میں عرش معلی کے دروازے پکڑ کر فریاد کرے گا کہ یا اللہ اس نے دنیا میں مجھ سے قطع تعلق کیا ہے۔اس کو بہشت کی نعماء سے محروم رکھا جاوے۔العیاذ باللہ۔خواہ وہ ذوی القربی بداخلاق اور بد چلن بھی ہوں۔یا نجس ہی کیوں نہ ہوں۔تو بھی ان کی اصلاح و تربیت میں کوشش کرو اور اگر وہ تم سے خود دوری اور قطع تعلق رکھیں تو تم اپنے اخلاق حمیدہ ، عفو، ستاری، مروت، خوش خلقی ، اور بے غل و غش، بے کینہ، بے بغض، اوصاف حمیدہ کی عملی و اخلاقی خدمت اور تواضع اور احسانات کا پر تو ڈال کران کو اپنی طرف کھینچ لو اور ان کی دوری کو اپنے احسانات اور حسن اخلاق اپنے قرب میں لے آؤ۔یعنی تم مؤثر بنو اور اُن پر اپنے اخلاق حمیدہ کا اثر خوب ڈالو۔ایسا نہ ہو کہ تم ان کے بداخلاق اور لا پرواہی کے اثرات سے متاثر ہوکر کینہ، غصہ اور جوش میں آکر ان کو دور پھینک دو۔اور ان سے قطع تعلق کرتے کرتے ان کے جانی دشمن بن جاؤ۔دیکھو مثل مشہور ہے کہ بڑا گر اپنی بدی سے