حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 96
رشاہ صاحب سوم۔۔۔۔۔۔اولاد باب سوم۔۔۔۔کریں۔اس سے زیادہ محبت کرنے والا کوئی نہیں۔رشتہ داروں، عزیز محبوں سے بہت بڑھ کر وہ خبر گیری کرے گا۔۲۔نمازوں میں ستی نہ ہو۔ایک نماز رہ جائے تو پھر اس کی کمی پوری کرنا نہایت مشکل ہے۔اس بات کو مد نظر رکھیں کہ باہر ایک انسان دوسروں کی نظر کے نیچے ہوتا ہے لوگوں کو آپ پر نکتہ چینی کا موقعہ نہ ملے اور (وہ) محسوس کریں کہ اس شخص نے ایک نمایاں نمونہ دکھایا۔یہ بیشک ایک ظاہر ہے۔مگر بہت سے ظاہر باطن کے مددگار ہوتے ہیں۔اپنی تعلیم کی طرف زیادہ توجہ دیں۔اگر جنگ وغیرہ کا کوئی حادثہ ہو۔تو سید ولی اللہ شاہ کی طرح اپنے والدین کو تکلیف کا شکار نہ بنائیں۔بلکہ فوراً ہالینڈ چلے جاویں یا کسی ایسے ملک میں جیسے سوئٹزرلینڈ جس میں جنگ نہ ہو۔باقی تعلیم انگلستان میں ہوسکتی ہے۔ایسے خطر ناک مقامات پر رہنا طالب علم کا کام نہیں۔۔احمدیوں سے وہاں زیادہ میل جول رکھنا چاہیے۔خواہ (وہ ) ادنی تعلیم کے ہوں یا ان کے مذاق مختلف ہوں۔جب تک عصبیت نہ ہو اور اپنوں اور دوسروں میں فرق نہ ہو وہ کامل اتحاد نہیں ہوتا جس سے قومیں ترقی کرتی ہیں۔علم کے لئے قرآن کریم کی تلاوت اور حضرت صاحب کی کتب ( کا مطالعہ ) نہایت مفید ہے۔اللہ تعالی مقصد میں کامیاب کر کے لاوے اور پچھلوں کے لئے موجب خوشی بناوے اللھم آمین۔خاکسار مرزا محمود احمد ۹۸