حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 180
ارشاہ صاحب باب شم۔۔۔۔۔۔ذکره میں پڑھا کرتے تھے تو ہائڈروفوبیا کی بیماری پر لیکچر دیتے ہوئے ان کے پروفیسر نے جب کہا کہ کیا یہ بیماری جب اس کا دورانیہ شروع ہو جائے تو لا علاج ہوتی ہے تو انہوں نے اٹھ کر کہا کہ یہ بات صحیح ہے یہ مرض لاعلاج ہے۔پروفیسر نے پورے وثوق سے کہا کہ یہ مرض اس صورت میں لاعلاج ہو جاتا ہے۔اس پر برادرم ڈاکٹر حبیب اللہ شاہ صاحب نے اپنا یہی چشم دید واقعہ بیان کیا کیونکہ وہ بھی ان دنوں ہائی سکول قادیان میں پڑھتے تھے۔جب انہوں نے سارا واقعہ بیان کیا تو پروفیسر نے کہا پھر تو ایک معجزہ ہے یہ واقعہ مجھے میرے بھائی نے سنایا“۔الفضل قادیان ۱۸ را پریل ۱۹۴۳ ، صفحه ۳) سچی معرفت حضرت سید زین العابدین ولی اللہ شاہ صاحب بیان فرماتے ہیں:۔مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ جو نبی علاقہ میں یا شہر میں طاعون نمودار ہوتی تو حضور علیہ السلام نہ صرف اپنے گھر کی صفائی کا حکم دیتے بلکہ بورڈنگ ہاؤس کی صفائی کے متعلق اہتمام فرماتے۔اور ایسا ہی احباب کو حکم دیتے کہ اپنے گھروں میں گندھک اور آگ اور فینائل اور گل وغیرہ اشیاء سے جراثیم ہلاک کرنے کا انتظام کیا جائے۔حضور علیہ السلام فرمایا کرتے تھے کہ اسباب سے کام لینا اللہ تعالیٰ کی نعمت کا شکریہ ادا کرنا ہے۔اور اس کے حکم کی تعمیل کے مترادف ہے اور ترک اسباب شریعت الہیہ کے خلاف ہے۔تو کل کا مقام اس کے بعد ہے۔یعنی اسباب کو اختیار کر کے ان پر بھروسہ نہ کیا جائے بلکہ سچی معرفت یہ ہے کہ اسباب کے پیچھے خدا تعالیٰ کے ہاتھ کو دیکھا جائے“۔صلى الله الفضل قادیان ۲۴ را پریل ۱۹۴۳ء صفحه ۳) فرمودات نبوی ﷺ کی پاسداری حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب اپنے والد ماجد کا ایک واقعہ بیان فرماتے ہیں کہ :- ۱۸۲