حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 77
رشاہ صاحب باب سوم۔۔۔۔سوم۔۔۔۔۔۔اولاد عجیب نظارہ دکھایا۔صبح سے نصف رات تک دوسو سے بارہ سوتک لوگ ہوٹل کے سامنے کھڑے رہتے۔اکثریت نہایت محبت کا اظہار کرتے۔وہاں کے ایک مشہور ادیب شیخ عبدالقادر المغربی نے جو حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب کے دوست تھے حضور سے کہا کہ آپ ایک جماعت کے معزز امام ہیں اس لئے ہم آپ کا اعزاز و اکرام کرتے ہیں۔چونکہ ہم لوگ عرب نسل کے ہیں اور عربی ہماری مادری زبان ہے۔اور کوئی ہندی خواہ کتنا ہی عالم ہو ہم سے زیادہ قرآن وحدیث سمجھنے کی اہلیت نہیں رکھتا۔اس لئے آپ یہ امید نہ رکھیں کہ ان علاقوں میں کوئی شخص آپ کے خیالات سے متاثر ہوگا۔حضور نے اس کی تردید کی اور فرمایا کہ ہندوستان واپس جانے کے بعد میرا پہلا کام یہ ہوگا کہ آپ کے ملک میں (مربی) روانہ کروں۔اور دیکھوں گا کہ خدائی جھنڈے کے علم برداروں کے سامنے آپ کا کیا دم خم ہے۔( سلسلہ احمدیہ مولفہ حضرت مرزا بشیر احمد صاحب صفحه ۳۷۵-۳۷۶) چنانچہ خدا تعالیٰ نے دمشق میں مربیان بھیجنے کی توفیق عطا فرمائی اور جماعت احمدیہ کے مربیان نے وہاں غیر معمولی کار ہائے نمایاں سرانجام دیئے۔جس کی تفصیل حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب نے اپنی خود نوشت سوانح حیات میں رقم فرمائی ہے۔(خود نوشت سوانح حیات سید ولی اللہ شاہ ) حضرت شاہ صاحب کی مراجعت حضرت سید ولی اللہ شاہ صاحب • امئی ۱۹۲۶ء کو قادیان واپس تشریف لائے اور (بیت) مبارک میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی ( اللہ آپ سے راضی ہو ) سے شرف ملاقات حاصل کیا اور اپنے حالات عرض کئے۔الفضل مورخه ۱۴ مئی ۱۹۲۶ صفحه ۱ ) ے امئی کو طلباء ٹی آئی ہائی سکول نے آپ کو دعوت چائے دی اور ایڈریس پیش کیا۔محترم شاہ صاحب نے دو گھنٹے کے قریب وقت میں شام کے حالات و مشکلات بیان کئے۔آخر پر حضور نے دعا کی۔الفضل مورخہ ۲۱ مئی ۱۹۲۶ ء صفحه ا )