حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 52
مارشاہ صاحب باب دوم۔۔۔سیرت و اخلاق دار الرحمت ( قادیان ) میں قیام فرما تھے میں حاضر خدمت ہوا اور مدعا بیان کیا آپ میرے ساتھ چل پڑے اور نفیس تو کیا لینی تھی اس بچہ کو ہدیہ بھی عطا فرمایا۔جزاہ اللہ احسن الجزاء۔روزنامه الفضل ربود ۱۰ جنوری ۱۹۶۹ ، صفحه ۳) والدین کے ساتھ حسن سلوک کی ایک خوبصورت مثال حضرت سید میر حامد شاہ صاحب سیالکوٹی ابن حضرت میر حسام الدین صاحب شاہ سیالکوٹی یکے از احباب تین صد تیرہ کا شمار صوفی منش اور بزرگ احباب جماعت میں ہوتا ہے۔آپ نے اپنی نظم ونثر سے اور اپنے عملی نمونہ سے خدمات سلسلہ احمدیہ کی توفیق پائی۔آپ کا وصال ۱۹۱۸ ء میں ہوا *۔حضرت ڈاکٹر سید عبدالستار شاہ صاحب آپ کے والدین کے ساتھ حسن سلوک کی مثال دیتے ہوئے فرماتے ہیں:۔یاد رکھو کہ صالح ومتقی اولاد اپنے والدین کے لئے ایک عجیب نعمت الہی اور تفضلات و انوار و برکات کا چشمہ ہے۔اس کا نمونہ حضرت سید حامد شاہ صاحب مرحوم میں دیکھو کہ اپنی ۵۵ سالہ عمر میں باوجود کثیر الاولاد ہونے کے اپنی تنخواہ اور آمدنی اور کمائی کو حتی کہ ایک پیسہ تک بھی خود خرچ نہیں کرتے تھے۔اور اپنے بوڑھے والد کے حوالہ کر دیتے۔وہ جس طرح چاہتے ان کی بیوی یا بال بچوں میں تقسیم کرتے۔اور اس میں کسی قسم کا انقباض صدر اور تنگی دل محسوس نہ کرتے۔بلکہ یہ کام ماتحت حکم الہی اپنے شرح صدر سے اپنی بیوی اور بال بچوں کی خوشنودی سمجھتے تھے۔اس کے باوجود اپنے باپ سے کسی ادنی نافرمانی پر بھی لوگوں کے سامنے مار کھانے اور بے عزت ہونے کے لئے تیار ہو جایا کرتے۔اور اپنے والدین کے جوش طبع اور غصہ اور اشتعال کو بخوشی دل قبول کر کے اُن کو خوش رکھتے تھے۔* حضرت میر حامد شاہ صاحب سیالکوٹی کے احوال و خدمات کی بابت ملاحظہ ہو ماہنامہ انصار اللہ مئی ۲۰۰۱ء (مرتب) ۵۴