حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب

by Other Authors

Page 206 of 233

حضرت ڈاکٹرسید عبدالستارشاہ صاحب — Page 206

شاہ صاحب باب ہفتم۔محروم رہے گی۔اس لئے تم شکر کرو کہ تمہارے مکانات رہائشی قادیان میں طیار ہوں اور وہاں تمہارا ٹھکا نہ ہو۔تم اپنی اولاد کو علم دین اور علم اشاعت ( دین حق ) اور امر بالمعروف و نہی عن المنکر کے عالم و عامل بنانے کی کوشش کرو اور انہیں (مربی دین) بناؤ۔تا تمہارا بھلا دین ودنیا میں ہو۔اگر تم نے اپنی اولا دکو زرا دُنیا دار ہی بنایا اور برے دنیاوی کامیابی کے عروج پر پہنچا دیا تو تم سمجھو کہ تم دنیا سے اُتر گئے اور لا ولد ولا وارث ہو گئے گو تمہاری اولاد بادشاہ ہی کیوں نہ ہو؟ فح نفس اور کل نفس اور کنجوسی سے بچو۔یہ سخت مہلک زہر ہے۔اس سے مال و جان و اولا د کو ضرور ضر ورضرور تبا ہی آتی ہے۔اس کا علاج سخاوت ، بذل مال، مهمان نوازی، غریب پروری، صدقہ و خیرات وغیره مالی ہمدردی تریاق اکبر و فادزہر کا حکم رکھتی ہیں۔اور ذوی الارحام کے ساتھ حسن سلوک وصلہ رحمی کا برتاؤ بھی ایک اکسیر کا حکم رکھتی ہے۔قطع رحمی سخت ظلم ہے۔اپنے محتاج بھائیوں اور محتاج ہمشیرگان کی امداد مالی جانی کرتے رہو۔تمہاری تین ہمشیرگان ہیں۔دو بیوہ اور ایک خاوند والی ان کے ساتھ خصوصاً ہمدردی اور دلجوئی اور خدمت کا خیال رکھو۔ان کی دشکنی سے سخت پر ہیز کرو۔اگر ان کی ناحق ناراضگی تم پر ہو تو عقلمندی اور حکمت عملی سے اس کی اصلاح کر کے ان کو خوش کر دو۔اور ان کو اگر معین مالی امداد دے سکتے ہو تو ماہوار کچھ رقم بطور جیب خرچ کے ان یتیموں کو ضرور دیتے رہو۔خصوصاً بیوگان کی بڑھ کر خدمت کرو اور ان کی اولاد کے ساتھ جب تک وہ قابل کافی گزارہ نہ ہوں، امداد دیتے رہو۔خصوصاً تمہاری ہمشیرہ زادی نصیرہ، تم اس کی بہبودی اور خدمت کا فکر کرو۔اپنی اطاعت و عبادت و غیره اخلاق فاضلہ پر ہرگز نازاں و مغرور نہ ہو۔یہ انقاء اور پارسائی اور اخلاق فاضلہ خدا تعالیٰ کا فضل ہے کیونکہ وَمَنْ يَأْتِي مِنْ خَيْرٍ فَمِنَ اللهِ ہے۔وَمَنْ يَأْتِي مِنْ شَرِّ فَمِنْ نَفْسِكَ وَمَا أُبْرِئُ ۲۰۸